حدیث نمبر: 3403M
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، بِمَعْنَاهُ وَهَذَا أَصَحُّ أَبُو عِيسَى وَرَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَهَذَا أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، قَدِ اضْطَرَبَ أَصْحَابُ أَبِي إِسْحَاق فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ أَخُو فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسرائیل نے ابواسحاق سے ، اور ابواسحاق نے فروہ بن نوفل سے ، فروہ نے اپنے والد نوفل سے روایت کی ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر آگے انہوں نے اس سے پہلی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اور یہ روایت زیادہ صحیح ہے ، ۲- نیز زہیر نے یہ حدیث ابواسحاق سے ، ابواسحاق نے فروہ بن نوفل سے ، فروہ نے اپنے والد نوفل سے ، اور نوفل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ، اور یہ روایت شعبہ کی روایت سے زیادہ مشابہ اور زیادہ صحیح ہے ۔ اور ابواسحاق کے اصحاب ( شاگرد ) اس حدیث میں مضطرب ہیں ، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن نوفل نے بھی اپنے باپ ( نوفل ) سے اور نوفل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، اور عبدالرحمٰن یہ عروہ بن نوفل کے بھائی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3403M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 209)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 107 (5055) ، سنن النسائی/عمل الیوم والیلة 230 (801) ( تحفة الأشراف : 11718) ، و مسند احمد (5/456) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن 22 (3470) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5055

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5055 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو (یعنی پوری سورۃ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5055]
فوائد ومسائل:
اور جو شخص اس کیفیت میں مرا کہ وہ شرک سے بری تھا تو اس کےلئے جنت کا وعدہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کافرمان گرامی ہے۔
من مَاتَ وهو يَعلمُ أَنه لا إِله إِلا الله دخل الجنةَ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 26) جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے لاإله إلا اللہ کا یقین تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔
من مَاتَ يُشركُ باللهِ شيئًا دَخلَ النَّارَ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھراتا تھا تو وہ آگ (جہنم) میں داخل ہوگا۔
حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اور میں کہتا ہوں۔
ومن مَاتَ لا يُشركُ باللهِ شيئًا دَخَلَ الجنَّةَ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث 1238 و صحیح مسلم، الإیمان، حدیث:920)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5055 سے ماخوذ ہے۔