حدیث نمبر: 3330M
وَرَوَى الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ مُجَاهِد عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِيهِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ غَيْرَ الثَّوْرِيِّ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَثُوَيْرٌ يكنى أبا جهم ، وأبو فاختة اسمه سعيد بن علاقة .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اشجعی نے سفیان سے ، سفیان نے ثویر سے ، ثویر نے مجاہد سے` اور مجاہد نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے ، اور ان کے قول سے روایت کی ہے اور اسے انہوں نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے ، اور میں ثوری کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند میں مجاہد کا نام لیا ہو ، ۴- اسے ہم سے بیان کیا ابوکریب نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا عبیداللہ اشجعی نے اور عبیداللہ اشجعی نے روایت کی سفیان سے ، ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3330M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2553

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2553 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ۲۲، ۲۳)۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2553]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔
(القیامۃ: 22، 23)
نوٹ:
(سند میں ثویر ضعیف اور رافضی راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2553 سے ماخوذ ہے۔