سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْجِنِّ باب: سورۃ الجن سے بعض آیات کی تفسیر۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَوْلُ الْجِنِّ لِقَوْمِهِمْ : " لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 قَالَ : لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ ، قَالَ : تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ : لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´اور اسی سند سے مروی ہے کہ` ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا : یہ بھی جنوں کا ہی قول ہے ، انہوں نے اپنی قوم سے کہا : «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» ” اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھڑ بن کر اس پر پل پڑیں “ ( الجن : ۱۹ ) ۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : جب انہوں نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا اور دیکھا کہ آپ کے صحابہ آپ کی اقتداء کرتے ہوئے آپ کی طرح نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کے سجدہ کی طرح سجدہ کر رہے ہیں تو وہ آپ کے اصحاب کی آپ کی اطاعت دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے ، انہوں نے اپنی قوم سے کہا : «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر تھے قرآن کا بیان سن کر انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بیوی کی ضرورت سے پاک ہے اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا گمراہ عقیدہ ہے۔
لہٰذا ہم ایسے عقیدے سے توبہ کر کے اکیلے اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔
2۔
سورۃ الاحقاف آیت نمبر 29۔
32۔
میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر ہے لیکن وہ ایک الگ واقعہ ہے۔
وہاں قرآن سننے والے مشرک نہیں تھے بلکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھتے تھے قرآن سننے کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے جبکہ اس سورت میں جن جنوں کا ذکر آیا ہے یہ مشرک تھے۔
واللہ اعلم۔
3۔
جنوں کے قرآن سننے کا ایک اور واقعہ بھی کتب حدیث میں مروی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اچانک آپ لا پتہ ہو گئے ہم نے آپ کوپہاڑ کی گھاٹیوں اور وادیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ مل سکے۔
ہم نے خیال کیا کہ آپ کو جن اڑا کر لے گئے ہیں یا آپ کو کسی نے اچانک شہید کردیا ہے۔
ہم نے وہ رات بہت تکلیف اور پریشانی میں بسر کی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے آ رہے ہیں ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو رات بھر تلاش کیا لیکن آپ نہ مل سکے ہم نے بڑے کرب اور تکلیف میں رات گزاری ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تھا۔
چنانچہ میں اس کے ساتھ گیا اور انھیں قران سنا کر آیا ہوں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1007۔
(450)
یہ ایک دوسرا واقعہ ہے۔
واللہ اعلم۔
جس میں جنوں کی ایک جماعت نے قرآن پاک سنا اور مسلمان ہو گئے۔
سورۃ جن میں ان ہی کا ذکر ہے۔
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نماز فجر میں بآواز بلند قرات فرمائی۔
مغرب اور عشاء اور فجر ان وقتوں کی نمازیں جہری کہلاتی ہیں کہ ان کے شروع والی رکعتوں میں بلند آواز سے قرآت کی جاتی ہے۔
اس حدیث میں اگرچہ نماز فجر میں جہری قراءت کی صراحت نہیں، تاہم جنات نے جب رسول اللہ ﷺ کی قراءت سنی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بآواز بلند قراءت فرما رہے تھے، نیز اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے، اوپر جاکر آسمانی خبریں لانے پر پابندی اور ان پر شعلے برسنے کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ نبوت میں ہواء حالانکہ یہ سلسلہ بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔
اس کے متعلق علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں یہ سلسلہ محدود پیمانے پر تھا، رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ نبوت میں اس میں شدت اور کثرت پیدا ہو گئی، اس پر جنات کو پریشانی ہوئی اور وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
(شرح الکرماني: 134/5)