سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ التَّحْرِيمِ باب: سورۃ التحریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3318M
قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تُخْبِرْ أَزْوَاجَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بَعَثَنِي اللَّهُ مُبَلِّغًا وَلَمْ يَبْعَثْنِي مُتَعَنِّتًا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معمر کہتے ہیں : مجھے ایوب نے خبر دی کہ عائشہ رضی الله عنہا نے آپ سے کہا کہ` اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی دوسری بیویوں کو نہ بتائیے گا کہ میں نے آپ کو چنا اور پسند کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا ہے تکلیف پہنچانے اور مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2468 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2468. حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میری یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ نبی ﷺ کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ اور رجوع کرو (تو بہترہے) پس تمھارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔‘‘ واقعہ یہ ہوا کہ میں ان کے ہمراہ حج کو گیا تو وہ (قضائے حاجت کے لیے) راستے سے ایک طرف ہٹے۔ میں بھی پانی کا مشکیزہ لیے ان کے ہمراہ ہو گیا، چنانچہ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر مشکیزے سےپانی ڈالا۔ انھوں نے وضوکیاتو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! نبی ﷺ کی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین میں سے وہ کون سی دو عورتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اگر تم تو بہ کرو(تو تمھارے لیے بہتر ہے) پس تمھارے دل(حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔‘‘ حضرت عمر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2468]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا اللہ کے رسول ﷺ کو غصہ دلانا اور ناراض کرنا اللہ کو غضب دلانا اور ناراض کرنا ہے۔
آنحضرت ﷺ جب دنیا میں تشریف رکھتے تھے تو ایک بار حضرت عمر ؓ تورات پڑھنے اور سنانے لگے، آپ ﷺ کا مبارک چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
دوسرے صحابہ نے حضرت عمر ؓ کو ملامت کی کہ آنحضرت ﷺ کا چہرہ نہیں دیکھتے۔
اس وقت انہوں نے تورات پڑھنا موقوف کیا۔
اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری تابعداری کرنی ہوتی۔
اس حدیث سے ان لوگوں کو نصیحت لینی چاہئے جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس پر حدیث شریف سن کر دوسرے مولوی یا امام یا درویش کی بات پر عمل کرتے ہیں اور حدیث شریف پر عمل نہیں کرتے۔
خیال کرنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کو ایسی باتوں سے کتنا صدمہ ہوتا ہوگا اور جب آنحضرت ﷺ بھی ناراض ہوئے تو کہاں ٹھکانا رہا۔
اللہ جل و جلالہ بھی ناراض ہوا۔
ایسی حالت میں نہ کوئی مولوی کام آئے گا نہ پیر نہ دوریش نہ امام۔
اللہ! تو اس بات کا گواہ ہے کہ ہم کو اپنے پیغمبر سے ایسی محبت ہے کہ باپ داداد، پیر مرشد، بزرگ امام مجتہد ساری دنیا کا قول اور فعل حدیث کے خلاف ہم لغو سمجھتے ہیں اور تیری اور تیرے پیغمبر ﷺ کی رضا مندی ہم کو کافی وافی ہے۔
اگر یہ سب تیری اور تیرے پیغمبر ﷺ کی تابعداری میں بالفرض ہم سے ناراض ہو جائیں تو ہم کو ان کی ناراضی کی ذرا بھی پروا نہیں ہے۔
یا اللہ! ہماری جان بدن سے نکلتے ہی ہم کو ہمارے پیغمبر کے پا س پہنچا دے۔
ہم عالم برزخ میں آپ ہی کی کفش برداری کرتے رہیں اور آپ ہی کی حدیث سنتے رہیں۔
(وحیدی)
حضرت مولانا وحید الزماں مرحوم کی ایمان افروز تقریر ان محترم حضرات کو بغور مطالعہ کرنی چاہئے جو آیات قرانی واحادیث صحیحہ کے سامنے اپنے اماموں، مرشدوں کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ بہت سے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کو آیات و احادیث سے غرض نہیں۔
ہمارے لیے ہمارے امام کا فتوی کافی وافی ہے۔
ایسے نادان مقلدین نے حضرات ائمہ کرام و مجتہدین عظام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی ارواح طیبہ کو سخت ایذا پہنچائی ہے۔
ان بزرگوں کی ہرگز یہ ہدایت نہ تھی کہ ان کو مقام رسالت کا مد مقابل بنا دیا جائے۔
وہ بزرگان معصوم نہ تھے۔
امام تھے، مجتہد تھے، قابل صد احترام تھے مگر وہ رسول نہ تھے۔
نہ نبی تھے اور حضرت محمد ﷺ کے مدمقابل نہ تھے۔
غالی مقلدین نے ان کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے قیامت کے دن یقینا ان کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
یہی وہ حرکت ہے جسے شرک فی الرسالت ہی کا نام دیا جانا چاہئے۔
یہی وہ مرض ہے جو یہود و نصاریٰ کی تباہی کا موجب بنا اور قرآن مجید کو ان کے لیے صاف کہنا پڑا ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
یہود و نصاریٰ نے اپنے علماءو مشائخ کو اللہ کے سوا رب قرار دے لیا تھا۔
ان کے اوامر و نواہی کو وہ وحی آسمانی کا درجہ دے چکے تھے، اسی لیے وہ عنداللہ مغضوب اور ضالین قرار پائے۔
صد افسوس! کہ امت مسلمہ ان سے بھی دو قدم آگے ہے۔
اور علماءو مشائخ کو یقینا ایسے لوگوں نے اللہ اور رسول کا درجہ دے رکھا ہے۔
کتنے پیر و مشائخ ہیں جو قبروں کی مجاوری کرتے کرتے خدا بنے بیٹھے ہیں۔
ان کے معتقدین ان کے قدموں میں سر رکھتے ہیں۔
ان کی خدمت و اطاعت کو اپنے لیے دونوں جہاں میں کافی و افی جانتے ہیں۔
ان کی شان میں ایک بھی تنقیدی لفظ گوار نہیں کر سکتے، یقینا ایسے غالی مسلمان آیت بالا کے مصداق ہیں۔
حالی مرحوم نے ایسے ہی لوگوں کے حق میں یہ رباعی کہی ہے۔
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ ایمان بگڑے نہ ا سلام جائے اقعہ مذکور ہے۔
مختصر لفظوں میں اس کی تفصیل یہ ہے: تمام ازواج کی باری مقرر تھی۔
اور اسی کے مطابق آنحضرت ﷺ ان کے یہاں جایا کرتے تھے۔
ایک دن عائشہ ؓ کی باری تھی اور انہیں کے گھر میں آپ کا اس دن قیام بھی تھا۔
لیکن اتفاق سے کسی وجہ سے آپ حضرت ماریہ قبطیہ ؓ کے یہاں تشریف لے گئے۔
حفصہ نے آپ کو وہاں دیکھ لیا اور آکر عائشہ سے کہہ دیا کہ باری تمہاری ہے اور آنحضرت ﷺ ماریہ ؓ کے یہاں گئے ہیں۔
عائشہ ؓ کو اس پر بڑا غصہ آیا۔
اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
آنحضرت ﷺ نے عہد کر لیا تھا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے علیحدہ رہیں گے۔
اور اس عرصے میں ان کے پاس نہیں جائیں گے۔
ا س پر صحابہ میں بہت تشویش پھیلی اور ازواج مطہرات اور ان کے عزیز و اقارب تک ہی بات نہیں رہی بلکہ تمام صحابہ ؓ اس فیصلے پر بہت پریشان ہو گئے۔
حضور اکرم ﷺ کے اس عہد کی تعبیر احادیث میں ”ایلا“ کے لفظ آتی ہے اور یہ بہت مشہور واقعہ ہے اس سے پہلے بھی بخاری میں اس کا ذکر آچکا ہے۔
ایلاءکے اسباب احادیث میں مختلف آئے ہیں۔
ایک تو وہی جو حدیث میں ذکر ہے، بعض روایتوں میں اس کا سبب ازواج مطہرات کا وہ مطالبہ بیان ہوا ہے کہ اخراجات انہیں ضرورت سے کم ملتے تھے، تنگی رہتی تھی، اس لیے تمام ازواج مطہرات نے حضور اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ انہیں اخراجات زیادہ ملنے چاہئیں۔
بعض روایتوں میں شہد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
علماءنے لکھا ہے کہ اصل میں یہ تمام واقعات پے در پے پیش آئے اور ان سب سے متاثر ہو کر آنحضرت ﷺ نے ایلاءکیا تھا، تاکہ ازواج کو تنبیہ ہو جائے۔
ازواج مطہرات سب کچھ ہونے کے باوجود پھر بھی انسان تھیں۔
اس لیے کبھی سوکن کی رقابت میں، کبھی کسی دوسرے انسانی جذبہ سے متاثر ہو کر اس طرح کے اقدامات کر جایا کرتی تھیں۔
جن سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف ہوتی تھی۔
اس باب میں اس حدیث کو ا س لیے ذکر کیا کہ اس میں بالا خانے کا ذکر ہے جس میں آپ نے تنہائی اختیار کی تھی۔
آنحضرت ﷺ جب دنیا میں تشریف رکھتے تھے تو ایک بار حضرت عمر ؓ تورات پڑھنے اور سنانے لگے، آپ ﷺ کا مبارک چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
دوسرے صحابہ نے حضرت عمر ؓ کو ملامت کی کہ آنحضرت ﷺ کا چہرہ نہیں دیکھتے۔
اس وقت انہوں نے تورات پڑھنا موقوف کیا۔
اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری تابعداری کرنی ہوتی۔
اس حدیث سے ان لوگوں کو نصیحت لینی چاہئے جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس پر حدیث شریف سن کر دوسرے مولوی یا امام یا درویش کی بات پر عمل کرتے ہیں اور حدیث شریف پر عمل نہیں کرتے۔
خیال کرنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کو ایسی باتوں سے کتنا صدمہ ہوتا ہوگا اور جب آنحضرت ﷺ بھی ناراض ہوئے تو کہاں ٹھکانا رہا۔
اللہ جل و جلالہ بھی ناراض ہوا۔
ایسی حالت میں نہ کوئی مولوی کام آئے گا نہ پیر نہ دوریش نہ امام۔
اللہ! تو اس بات کا گواہ ہے کہ ہم کو اپنے پیغمبر سے ایسی محبت ہے کہ باپ داداد، پیر مرشد، بزرگ امام مجتہد ساری دنیا کا قول اور فعل حدیث کے خلاف ہم لغو سمجھتے ہیں اور تیری اور تیرے پیغمبر ﷺ کی رضا مندی ہم کو کافی وافی ہے۔
اگر یہ سب تیری اور تیرے پیغمبر ﷺ کی تابعداری میں بالفرض ہم سے ناراض ہو جائیں تو ہم کو ان کی ناراضی کی ذرا بھی پروا نہیں ہے۔
یا اللہ! ہماری جان بدن سے نکلتے ہی ہم کو ہمارے پیغمبر کے پا س پہنچا دے۔
ہم عالم برزخ میں آپ ہی کی کفش برداری کرتے رہیں اور آپ ہی کی حدیث سنتے رہیں۔
(وحیدی)
حضرت مولانا وحید الزماں مرحوم کی ایمان افروز تقریر ان محترم حضرات کو بغور مطالعہ کرنی چاہئے جو آیات قرانی واحادیث صحیحہ کے سامنے اپنے اماموں، مرشدوں کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ بہت سے تو صاف لفظوں میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کو آیات و احادیث سے غرض نہیں۔
ہمارے لیے ہمارے امام کا فتوی کافی وافی ہے۔
ایسے نادان مقلدین نے حضرات ائمہ کرام و مجتہدین عظام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی ارواح طیبہ کو سخت ایذا پہنچائی ہے۔
ان بزرگوں کی ہرگز یہ ہدایت نہ تھی کہ ان کو مقام رسالت کا مد مقابل بنا دیا جائے۔
وہ بزرگان معصوم نہ تھے۔
امام تھے، مجتہد تھے، قابل صد احترام تھے مگر وہ رسول نہ تھے۔
نہ نبی تھے اور حضرت محمد ﷺ کے مدمقابل نہ تھے۔
غالی مقلدین نے ان کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے قیامت کے دن یقینا ان کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
یہی وہ حرکت ہے جسے شرک فی الرسالت ہی کا نام دیا جانا چاہئے۔
یہی وہ مرض ہے جو یہود و نصاریٰ کی تباہی کا موجب بنا اور قرآن مجید کو ان کے لیے صاف کہنا پڑا ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
یہود و نصاریٰ نے اپنے علماءو مشائخ کو اللہ کے سوا رب قرار دے لیا تھا۔
ان کے اوامر و نواہی کو وہ وحی آسمانی کا درجہ دے چکے تھے، اسی لیے وہ عنداللہ مغضوب اور ضالین قرار پائے۔
صد افسوس! کہ امت مسلمہ ان سے بھی دو قدم آگے ہے۔
اور علماءو مشائخ کو یقینا ایسے لوگوں نے اللہ اور رسول کا درجہ دے رکھا ہے۔
کتنے پیر و مشائخ ہیں جو قبروں کی مجاوری کرتے کرتے خدا بنے بیٹھے ہیں۔
ان کے معتقدین ان کے قدموں میں سر رکھتے ہیں۔
ان کی خدمت و اطاعت کو اپنے لیے دونوں جہاں میں کافی و افی جانتے ہیں۔
ان کی شان میں ایک بھی تنقیدی لفظ گوار نہیں کر سکتے، یقینا ایسے غالی مسلمان آیت بالا کے مصداق ہیں۔
حالی مرحوم نے ایسے ہی لوگوں کے حق میں یہ رباعی کہی ہے۔
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ ایمان بگڑے نہ ا سلام جائے اقعہ مذکور ہے۔
مختصر لفظوں میں اس کی تفصیل یہ ہے: تمام ازواج کی باری مقرر تھی۔
اور اسی کے مطابق آنحضرت ﷺ ان کے یہاں جایا کرتے تھے۔
ایک دن عائشہ ؓ کی باری تھی اور انہیں کے گھر میں آپ کا اس دن قیام بھی تھا۔
لیکن اتفاق سے کسی وجہ سے آپ حضرت ماریہ قبطیہ ؓ کے یہاں تشریف لے گئے۔
حفصہ نے آپ کو وہاں دیکھ لیا اور آکر عائشہ سے کہہ دیا کہ باری تمہاری ہے اور آنحضرت ﷺ ماریہ ؓ کے یہاں گئے ہیں۔
عائشہ ؓ کو اس پر بڑا غصہ آیا۔
اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
آنحضرت ﷺ نے عہد کر لیا تھا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے علیحدہ رہیں گے۔
اور اس عرصے میں ان کے پاس نہیں جائیں گے۔
ا س پر صحابہ میں بہت تشویش پھیلی اور ازواج مطہرات اور ان کے عزیز و اقارب تک ہی بات نہیں رہی بلکہ تمام صحابہ ؓ اس فیصلے پر بہت پریشان ہو گئے۔
حضور اکرم ﷺ کے اس عہد کی تعبیر احادیث میں ”ایلا“ کے لفظ آتی ہے اور یہ بہت مشہور واقعہ ہے اس سے پہلے بھی بخاری میں اس کا ذکر آچکا ہے۔
ایلاءکے اسباب احادیث میں مختلف آئے ہیں۔
ایک تو وہی جو حدیث میں ذکر ہے، بعض روایتوں میں اس کا سبب ازواج مطہرات کا وہ مطالبہ بیان ہوا ہے کہ اخراجات انہیں ضرورت سے کم ملتے تھے، تنگی رہتی تھی، اس لیے تمام ازواج مطہرات نے حضور اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ انہیں اخراجات زیادہ ملنے چاہئیں۔
بعض روایتوں میں شہد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
علماءنے لکھا ہے کہ اصل میں یہ تمام واقعات پے در پے پیش آئے اور ان سب سے متاثر ہو کر آنحضرت ﷺ نے ایلاءکیا تھا، تاکہ ازواج کو تنبیہ ہو جائے۔
ازواج مطہرات سب کچھ ہونے کے باوجود پھر بھی انسان تھیں۔
اس لیے کبھی سوکن کی رقابت میں، کبھی کسی دوسرے انسانی جذبہ سے متاثر ہو کر اس طرح کے اقدامات کر جایا کرتی تھیں۔
جن سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف ہوتی تھی۔
اس باب میں اس حدیث کو ا س لیے ذکر کیا کہ اس میں بالا خانے کا ذکر ہے جس میں آپ نے تنہائی اختیار کی تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2468 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2468 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2468. حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میری یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ نبی ﷺ کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ اور رجوع کرو (تو بہترہے) پس تمھارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔‘‘ واقعہ یہ ہوا کہ میں ان کے ہمراہ حج کو گیا تو وہ (قضائے حاجت کے لیے) راستے سے ایک طرف ہٹے۔ میں بھی پانی کا مشکیزہ لیے ان کے ہمراہ ہو گیا، چنانچہ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر مشکیزے سےپانی ڈالا۔ انھوں نے وضوکیاتو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! نبی ﷺ کی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین میں سے وہ کون سی دو عورتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اگر تم تو بہ کرو(تو تمھارے لیے بہتر ہے) پس تمھارے دل(حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔‘‘ حضرت عمر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2468]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس طویل حدیث سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے جن کا ذکر اپنے اپنے مقام پر آئے گا۔
اس مقام پر اسے پیش کرنے کا صرف یہ مقصد ہے کہ مکان پر بالاخانہ تعمیر کرنا جائز ہے بشرطیکہ ہمسایوں کی پردہ دری نہ ہوتی ہو۔
اگر اس سے ان کی بے پردگی ہو تو جائز نہیں۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے بالاخانے کا ذکر ہے، آپ کی رہائش کے علاوہ، زکاۃ وغیرہ کا جو مال آتا وہ بھی اسی میں رکھا جاتا تھا۔
دوسری روایات میں ہے کہ اس پر چڑھنے کے لیے کھجور کے تنوں کے سیڑھیاں تھی۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 387)
وہاں نگرانی کے لیے ایک حبشی غلام بھی تعینات تھا۔
بعض روایات میں صراحت ہے کہ اس کی نگرانی حضرت بلال ؒ کے ذمے تھی۔
(2)
علامہ عینى ؒ نے لکھا ہے کہ بالاخانہ چار قسم کا ہوتا ہے: ٭ مکان کی چھت پر ہو اور اس سے تاک جھانک ممکن ہو۔
اس قسم کا بالاخانہ ناجائز ہے۔
٭ مکان کی چھت پر ہو لیکن اس سے جھانک نہ پڑتی ہو۔
اس کی دیواریں اونچی ہوں۔
ایسا بالاخانہ بنانا جائز ہے۔
٭ وہ بلند مکان جو چھت کے بجائے مستقل ہو، اس سے پڑوسیوں کی بے پردگی ہوتی ہو۔
یہ بھی ناجائز ہے۔
٭ ایسا اونچا مکان جو چھت پر نہ ہو لیکن اس میں تاک جھانک کا سدباب ہو، ایسا اونچا مکان تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر پڑوسی کو نقصان پہنچنے کا واضح امکان ہو تو درست نہیں بصورت دیگر بالاخانہ جائز ہے۔
(عمدة القاري: 223/9)
(1)
امام بخاری ؒ نے اس طویل حدیث سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے جن کا ذکر اپنے اپنے مقام پر آئے گا۔
اس مقام پر اسے پیش کرنے کا صرف یہ مقصد ہے کہ مکان پر بالاخانہ تعمیر کرنا جائز ہے بشرطیکہ ہمسایوں کی پردہ دری نہ ہوتی ہو۔
اگر اس سے ان کی بے پردگی ہو تو جائز نہیں۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے بالاخانے کا ذکر ہے، آپ کی رہائش کے علاوہ، زکاۃ وغیرہ کا جو مال آتا وہ بھی اسی میں رکھا جاتا تھا۔
دوسری روایات میں ہے کہ اس پر چڑھنے کے لیے کھجور کے تنوں کے سیڑھیاں تھی۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 387)
وہاں نگرانی کے لیے ایک حبشی غلام بھی تعینات تھا۔
بعض روایات میں صراحت ہے کہ اس کی نگرانی حضرت بلال ؒ کے ذمے تھی۔
(2)
علامہ عینى ؒ نے لکھا ہے کہ بالاخانہ چار قسم کا ہوتا ہے: ٭ مکان کی چھت پر ہو اور اس سے تاک جھانک ممکن ہو۔
اس قسم کا بالاخانہ ناجائز ہے۔
٭ مکان کی چھت پر ہو لیکن اس سے جھانک نہ پڑتی ہو۔
اس کی دیواریں اونچی ہوں۔
ایسا بالاخانہ بنانا جائز ہے۔
٭ وہ بلند مکان جو چھت کے بجائے مستقل ہو، اس سے پڑوسیوں کی بے پردگی ہوتی ہو۔
یہ بھی ناجائز ہے۔
٭ ایسا اونچا مکان جو چھت پر نہ ہو لیکن اس میں تاک جھانک کا سدباب ہو، ایسا اونچا مکان تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر پڑوسی کو نقصان پہنچنے کا واضح امکان ہو تو درست نہیں بصورت دیگر بالاخانہ جائز ہے۔
(عمدة القاري: 223/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2468 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4914 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4914. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر ؓ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کی: اے امیر المومنین! وہ دو عورتیں کون تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ اور حفصہ ؓ تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4914]
حدیث حاشیہ:
1۔
اللہ تعالیٰ نے جو ان دونوں پر عتاب فرمایا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، اس عتاب کی دو وجہیں ہیں:۔
انھوں نے باہمی رقابت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی بات پر مجبور کر دیا جو آپ کے شایان شان نہ تھی۔
۔
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ظاہر کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس لیے انھیں متنبہ فرمایا تاکہ انھیں بلکہ معاشرے کی تمام ذمہ دار خواتین کو راز کی حفاظت کی تربیت دی جائے کیونکہ زوجین کے گھریلو معاملات بعض دفعہ ابتدائی طور پر بالکل معمولی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کا نوٹس نہ لیا جائے تو آئندہ چل کر نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
2۔
ایک اور حقیقت کی طرف ہم اشارہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ جب بیوی نے پوچھا کہ میری یہ غلطی آپ کو کس نے بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے علیم وخبیر نے اس کی خبر دی ہے۔
‘‘ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پورے قرآن میں وہ آیت کہاں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو: اے نبی! تم نے اپنی بیویوں سے جو راز کی بات کہی تھی، اس نے ظاہر کر دیا ہے؟ اگر کوئی ایسی آیت نہیں ہے تو یہ اس بات کا واضح اورکھلا ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی جو آج احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
3۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ آپ اپنی بیوی سے ذکر ہی نہ کرتے اور پھر یہ نہ فرماتے کہ مجھے علیم و خبیر رب نے بتایا ہے۔
1۔
اللہ تعالیٰ نے جو ان دونوں پر عتاب فرمایا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے، اس عتاب کی دو وجہیں ہیں:۔
انھوں نے باہمی رقابت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی بات پر مجبور کر دیا جو آپ کے شایان شان نہ تھی۔
۔
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ظاہر کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس لیے انھیں متنبہ فرمایا تاکہ انھیں بلکہ معاشرے کی تمام ذمہ دار خواتین کو راز کی حفاظت کی تربیت دی جائے کیونکہ زوجین کے گھریلو معاملات بعض دفعہ ابتدائی طور پر بالکل معمولی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کا نوٹس نہ لیا جائے تو آئندہ چل کر نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
2۔
ایک اور حقیقت کی طرف ہم اشارہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ جب بیوی نے پوچھا کہ میری یہ غلطی آپ کو کس نے بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے علیم وخبیر نے اس کی خبر دی ہے۔
‘‘ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پورے قرآن میں وہ آیت کہاں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو: اے نبی! تم نے اپنی بیویوں سے جو راز کی بات کہی تھی، اس نے ظاہر کر دیا ہے؟ اگر کوئی ایسی آیت نہیں ہے تو یہ اس بات کا واضح اورکھلا ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی جو آج احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
3۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ آپ اپنی بیوی سے ذکر ہی نہ کرتے اور پھر یہ نہ فرماتے کہ مجھے علیم و خبیر رب نے بتایا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4914 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1479 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں کافی عرصہ سے خواہش مند (آرزو مند) تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں دریافت کروں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو تمہارے لیے زیبا ہے، تمہارے دل تو اللہ کی طرف مائل ہو ہی چکے ہیں۔‘‘ (تحریم: 4) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3695]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کہنا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوال کو ناپسند کیا مگر جواب نہیں چھپایا درست نہیں ہے۔
کیونکہ تعجب کا اظہار سوال کی ناپسندیدگی پر نہیں تھا سوال کی تو ترغیب اور حوصلہ افزائی کی ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
تعجب اس بات پر کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں علم و فضل میں بلند مقام پر فائز سمجھتے تھے اور علم تفسیر میں وہ بہت شہرت رکھتے تھے تو ان پر یہ بات کیسے مخفی رہ گئی اور آج تک انھوں نے کیوں نہ پوچھا۔
کیونکہ تعجب کا اظہار سوال کی ناپسندیدگی پر نہیں تھا سوال کی تو ترغیب اور حوصلہ افزائی کی ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
تعجب اس بات پر کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں علم و فضل میں بلند مقام پر فائز سمجھتے تھے اور علم تفسیر میں وہ بہت شہرت رکھتے تھے تو ان پر یہ بات کیسے مخفی رہ گئی اور آج تک انھوں نے کیوں نہ پوچھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1479 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1479 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں سال بھر یہ ارادہ کرتا رہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آیت کا مفہوم پوچھوں، لیکن ان کی ہیبت کی بنا پر ان سے پوچھ نہ سکا حتی کہ وہ حج کے لیے نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب واپس پلٹے، تو وہ راستہ کے کسی حصہ پر اپنی ضرورت (قضائے حاجت) کے لیے پیلو کے درخت کی طرف ہٹ گئے، (مڑ گئے) میں بھی ان کی فراغت کے انتظار میں ٹھہر گیا۔ پھر ان کے ساتھ چل پڑا۔ تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3692]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
أَاْتَمِرُهُ: میں اس کے بارے میں سوچ وبچار میں مشغول تھا۔
(2)
اَنْ تُراجَعَ: تیری بات کا جواب دیا جائے۔
(3)
اَخَذَتْنِيْ اَخْذاً: مجھے نشانہ بنایا۔
(4)
كَسَرَتْنِيْ عَنْ بَعْضِ مَا اَجِدُ: بعض باتیں جو میں کہنا چاہتا تھا، ان سے پھیر دیا۔
ان کے کرنے کا موقعہ اور گنجائش نہ چھوڑی۔
(5)
عَجْلَةٌ: سیڑھی۔
مَصْبُوْرٌ: بندھا ہوا یا جمع شدہ گٹھا۔
(6)
اُهُبٌ يا اُهُب: اِهَاب کی جمع ہے۔
وہ چمڑا جو رنگا نہیں گیا۔
(1)
أَاْتَمِرُهُ: میں اس کے بارے میں سوچ وبچار میں مشغول تھا۔
(2)
اَنْ تُراجَعَ: تیری بات کا جواب دیا جائے۔
(3)
اَخَذَتْنِيْ اَخْذاً: مجھے نشانہ بنایا۔
(4)
كَسَرَتْنِيْ عَنْ بَعْضِ مَا اَجِدُ: بعض باتیں جو میں کہنا چاہتا تھا، ان سے پھیر دیا۔
ان کے کرنے کا موقعہ اور گنجائش نہ چھوڑی۔
(5)
عَجْلَةٌ: سیڑھی۔
مَصْبُوْرٌ: بندھا ہوا یا جمع شدہ گٹھا۔
(6)
اُهُبٌ يا اُهُب: اِهَاب کی جمع ہے۔
وہ چمڑا جو رنگا نہیں گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1479 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4786 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4786. نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں تو (سب سے) پہلے آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’میں تم سے ایک معاملے کے متعلق کہنے آیا ہوں، اس معاملےمیں جلد بازی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دینا۔‘‘ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے علیحدگی اختیار کرنے کا مشورہ کبھی نہیں دیں گے، چنانچہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیں، اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتی ہو۔۔ بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ میں نے کہا: میں اس معاملے میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ، اس کے رسول اور عالم آخرت کی خواہاں ہوں۔ (حضرت عائشہ ؓ) فرماتی ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی دوسری بیویوں نے بھی وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ اس کی متابعت موسٰی بن اعین نے معمر سے کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4786]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں اس وقت تو بیویاں تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قریش سے تھیں اور باقی چار، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اورحضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،ان کے علاوہ تھیں۔
2۔
فتوحات کے نتیجہ میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے سے بہتر ہو گئی تو انصار اور مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نے بھی نان و نفقے میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سادگی پسند تھے اس لیے ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے اس مطالبے سے سخت رنجیدہ ہوئے اور آپ نے بیویوں سے ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔
جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تشریف لائے اور اجازت چاہی۔
آپ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ آپ کے پاس آپ کی بیویاں غمگین اور خاموش بیٹھی ہیں۔
آپ نے فرمایا ’’میرے گرد بیٹھی خرچ کا مطالبہ کر رہی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
‘‘ پھر آپ نے ان سے ایک مہینے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔
(صحیح مسلم، الطلاق، حدیث: 3690۔
(1478)
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ کے بعد بالا خانے سے نیچے اترے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: آپ نے ایک ماہ کا کہا تھا آج انتیس دن ہوئے ہیں؟ آپ نے انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس (30)
دن کا بھی ہوتا اورانتیس (29)
دن کا بھی گویا وہ مہینہ انتیس (29)
دن کا تھا۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 3690۔
(1478)
4۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرد اگر بیوی کو اختیار دیتا ہے تو اسے طلاق قرار دیا جائے گا لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ اگر عورت علیحدگی اختیار نہیں کرتی تو کسی صورت میں طلاق نہیں ہو گی جیسا کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نے علیحدگی کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تو اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1910)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں اس وقت تو بیویاں تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قریش سے تھیں اور باقی چار، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اورحضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،ان کے علاوہ تھیں۔
2۔
فتوحات کے نتیجہ میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے سے بہتر ہو گئی تو انصار اور مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نے بھی نان و نفقے میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سادگی پسند تھے اس لیے ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے اس مطالبے سے سخت رنجیدہ ہوئے اور آپ نے بیویوں سے ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔
جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تشریف لائے اور اجازت چاہی۔
آپ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ آپ کے پاس آپ کی بیویاں غمگین اور خاموش بیٹھی ہیں۔
آپ نے فرمایا ’’میرے گرد بیٹھی خرچ کا مطالبہ کر رہی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
‘‘ پھر آپ نے ان سے ایک مہینے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔
(صحیح مسلم، الطلاق، حدیث: 3690۔
(1478)
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ کے بعد بالا خانے سے نیچے اترے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: آپ نے ایک ماہ کا کہا تھا آج انتیس دن ہوئے ہیں؟ آپ نے انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس (30)
دن کا بھی ہوتا اورانتیس (29)
دن کا بھی گویا وہ مہینہ انتیس (29)
دن کا تھا۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 3690۔
(1478)
4۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرد اگر بیوی کو اختیار دیتا ہے تو اسے طلاق قرار دیا جائے گا لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ اگر عورت علیحدگی اختیار نہیں کرتی تو کسی صورت میں طلاق نہیں ہو گی جیسا کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نے علیحدگی کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تو اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1910)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4786 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1475 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور یہ الفاظ حرملہ بن یحییٰ تجیبی کے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو (دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا) اختیار دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: ’’میں تم سے ایک معاملہ کا ذکر کرنے لگا ہوں۔ تم پر کوئی تنگی نہیں ہے اگر (اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں) جلد بازی سے کام نہ لو۔ حتی کہ اپنے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3681]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اسباب و وجوہ کی بنا پر ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین سے ناراض ہوئے جو پے در پے یکے بعد دیگرے پیش آئے پہلے شہد والا واقعہ پیش آیا، اس کے بعد ماریہ قبطیہ کا واقعہ رونما ہو۔
پھر ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نان و نفقہ میں اضافہ کے مطالبہ پر متفق ہو گئیں اس طرح کچھ امور پیش آئے جو آ گے آ رہے ہیں جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ ایلا کرتے ہوئے ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین سے علیحدگی اختیار کرلی، اور ایلا کے خاتمہ پر آیت تخییر نازل ہوئی۔
جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو اپنے پاس رہنے اور جدا ہونے کا اختیار دیا۔
اور آغاز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: کیونکہ وہی سب سے زیادہ محبوبہ تھیں اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ان کی خیر خواہی کے پیش نظران کی نوخیزی تجربہ کاری سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا کہ فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لینا۔
پہلے اپنے والدین سے مشورہ کر لینا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار تھے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی گوارا نہیں کر سکتے تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی کمال ذہانت و فطانت اور اصابت فکر کی بنا پر مشورہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زندگی گزارنے کو ترجیح دی یہ واقعہ 9 ہجری میں پیش آیا جس سے معلوم ہوتا ہے۔
اس وقت تک ان کی والدہ اُم رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بقید حیات تھیں اور باقی ازواج نے بھی اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کا انتخاب کیا۔
اور اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں طلاق تفویض کی تھی کہ وہ طلاق لینے کا حق رکھتی ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دینے کا وعدہ اس شرط پر کیا تھا جب وہ دنیا کو اختیار کر لیں گی۔
امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اور شعبی رحمۃ اللہ علیہ، تفویض کے قائل ہیں اور امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ وعدہ کے۔
پھر ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین نان و نفقہ میں اضافہ کے مطالبہ پر متفق ہو گئیں اس طرح کچھ امور پیش آئے جو آ گے آ رہے ہیں جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ ایلا کرتے ہوئے ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین سے علیحدگی اختیار کرلی، اور ایلا کے خاتمہ پر آیت تخییر نازل ہوئی۔
جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو اپنے پاس رہنے اور جدا ہونے کا اختیار دیا۔
اور آغاز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: کیونکہ وہی سب سے زیادہ محبوبہ تھیں اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ان کی خیر خواہی کے پیش نظران کی نوخیزی تجربہ کاری سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا کہ فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لینا۔
پہلے اپنے والدین سے مشورہ کر لینا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار تھے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی گوارا نہیں کر سکتے تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی کمال ذہانت و فطانت اور اصابت فکر کی بنا پر مشورہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زندگی گزارنے کو ترجیح دی یہ واقعہ 9 ہجری میں پیش آیا جس سے معلوم ہوتا ہے۔
اس وقت تک ان کی والدہ اُم رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بقید حیات تھیں اور باقی ازواج نے بھی اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کا انتخاب کیا۔
اور اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں طلاق تفویض کی تھی کہ وہ طلاق لینے کا حق رکھتی ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دینے کا وعدہ اس شرط پر کیا تھا جب وہ دنیا کو اختیار کر لیں گی۔
امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اور شعبی رحمۃ اللہ علیہ، تفویض کے قائل ہیں اور امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ وعدہ کے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1475 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3469 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (اختیار دہی) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا “ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3469]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (اختیار دہی) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا “ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3469]
اردو حاشہ: (1) خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے کہ اگر تو چاہے تو طلاق لے لے۔ اگر عورت جواب میں کہے: میں نے طلاق لے لی تو اسے طلاق ہوجائے گی۔ البتہ اختلاف ہے کہ وہ طلاق رجعی مدت مقرر کردے تو اس مدت میں بھی وہ کسی وقت طلاق اختیار کرسکتی ہے جیسے رسول اللہﷺنے حضرت عائشہؓ کو مہلت دی کہ فوراً جواب نہ دے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے بعد جواب دے دینا۔
(2) نبیﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے ابتدائی دور میں آپ سے اخراجات کے مطالبے کیے تھے جو آپ کی دسترس سے باہر تھے‘ نیز وہ آپ کی نبوی مزاج کے بھی خلاف تھے‘ اس لیے آپ کو پریشانی ہوئی۔ اللہ تعا لیٰ نے حل تجویز فرمایا کہ آپ کی بیویوں کا مزاج‘ نبوی مزاج کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں۔ توجہ دنیا کی بجائے عقبیٰ کی طرف ہو۔ اگر ہو اس مزاج کو اختیار نہ کرسکیں تو آپ سے طلاق لے لیں اور دنیا کہیں اور تلاش کرلیں۔ آپ نے یہی بات اپنی بیویوں سے ارشاد فرمائی۔ مقصد ان کی تربیت تھا۔ ایک ماہ تک وہ رسول اللہﷺ کی جدائی سے بہت کچھ سیکھ چکی تھیں‘ لہٰذا سب نے رسول اللہﷺ اور آخرت کو پسند کیا اور ہر عسرویسر میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور پھر آخر زندگی تک ان کی زبان سے کوئی مطالبہ نہ نکلا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهُن وَأَرْضَاهُنَّ۔
(2) نبیﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے ابتدائی دور میں آپ سے اخراجات کے مطالبے کیے تھے جو آپ کی دسترس سے باہر تھے‘ نیز وہ آپ کی نبوی مزاج کے بھی خلاف تھے‘ اس لیے آپ کو پریشانی ہوئی۔ اللہ تعا لیٰ نے حل تجویز فرمایا کہ آپ کی بیویوں کا مزاج‘ نبوی مزاج کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں۔ توجہ دنیا کی بجائے عقبیٰ کی طرف ہو۔ اگر ہو اس مزاج کو اختیار نہ کرسکیں تو آپ سے طلاق لے لیں اور دنیا کہیں اور تلاش کرلیں۔ آپ نے یہی بات اپنی بیویوں سے ارشاد فرمائی۔ مقصد ان کی تربیت تھا۔ ایک ماہ تک وہ رسول اللہﷺ کی جدائی سے بہت کچھ سیکھ چکی تھیں‘ لہٰذا سب نے رسول اللہﷺ اور آخرت کو پسند کیا اور ہر عسرویسر میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور پھر آخر زندگی تک ان کی زبان سے کوئی مطالبہ نہ نکلا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهُن وَأَرْضَاهُنَّ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3469 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3470 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ” عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ “ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3470]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ” عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ “ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3470]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ یہ حدیث معمر عن الزہری عن عروہ کے طریق سے محفوظ ہے اور یونس وموسیٰ عن الزہری عن ابی سلمہ کے طریق سے محفوظ ہے لیکن امام صاحب رحمہ اللہ کا یہ خیال محل نظر معلوم ہوتا ہے کیونکہ معمر‘ عروہ سے بیان کرنے میں منفرد نہیں بلکہ ان کی متابعت موجود ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”معمرکی‘ عروہ سے بیان کرنے میں جعفر بن برقان نے متابعت کی ہے۔ ممکن ہے زہری نے یہ حدیث (عروہ اور ابوسلمہ) دونوں سے سنی ہو‘ انہوں نے کبھی ایک سے بیان کردیا اور کبھی دوسرے سے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ دیکھیے: (فتح الباري: 8/523) معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طریق محفوظ ہیں اور حدیث دونوں طرق سے صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3470 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3203 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو (دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سب سے پہلے) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: ” میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3203]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو (دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سب سے پہلے) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: ” میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3203]
اردو حاشہ: (1) جب مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہونے لگیں اور اس کے نتیجے میں مال غنیمت کی بھی کثرت ہوئی تو مسلمانوں کی مالی حالت بھی پہلے سے قدرے بہتر ہوگئی۔ رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن بھی انسان ہی تھیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر ان کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ انہیں بھی پہلے کی نسبت کچھ زیادہ سہولتیں حاصل ہوں، جس کا اظہار انہوں نے رسول اللہﷺ سے کیا۔ اس سے آپ پریشان ہوگئے تو اللہ تعا لیٰ نے اس کا حل تجویز فرمایا کہ آپ اپنی عورتوں کو صاف بتا دیں کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا کام کررہا ہوں۔ دنیا کی زیب وزینت سے بہت دورہوں۔ اگر تم نے میرے ساتھ رہنا ہے تو تمہیں میری طرح جھوٹا موٹا کھا کر ہی گزارا کرنا ہوگا۔ اگر تم اس طرح درویشانہ طریقے سے زندگی گزارسکو تو بہتر ہے، اور اگر تم میری طرح نہیں رہ سکتیں اور تمہیں زیادہ مال چاہیے تو میں برضا ورغبت بغیر کسی ناراضی کے تمہیں اپنی زوجیت سے فارغ کردیتا ہوں، جہاں چاہے نکاح کرلو۔ مگر آفرین ہے آپ کی ازواج مطہرات پر کہ کسی نے بھی دنیا کا نام نہ لیا اور پھر کبھی مرتے دم تک درویشی نہ چھوڑی۔ رسول اللہﷺ کی زوجیت (دنیا وجنت میں) اور اللہ تعالیٰ کے اجروعظیم پرشاداں وفرحاں رہیں۔ کبھی فقر وفاقہ کی شکایت نہ کی۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْهنْ وأرضاھن
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ آپ کا خاصہ شمار فرمایا ہے کیونکہ ہمارے لیے فرض ہے کہ بیویوں کو ان کا کھانا، پینا اور لباس ہر صورت مہیا کریں۔ اور یہ ان کا حق ہے، لہٰذا ہم اپنی بیویوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہیں میرے ساتھ بھوکا رہنا ہوگا ورنہ طلاق لے لو۔ لیکن رسول اللہﷺ کے لیے ایسا اعلان واجب تھا کیونکہ آپ کی شان بہت بلند ہے۔ نبی کے گھر میں نبوی مزاج والی عورتیں ہی مناسب ہیں تاکہ نبی کو پریشانی نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کا درجہ بھی بلند رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ﴾
(2) خیروبھلائی کے کاموں میں سبقت کرنی چاہیے اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ا س کا اجر عظیم ہے۔
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ آپ کا خاصہ شمار فرمایا ہے کیونکہ ہمارے لیے فرض ہے کہ بیویوں کو ان کا کھانا، پینا اور لباس ہر صورت مہیا کریں۔ اور یہ ان کا حق ہے، لہٰذا ہم اپنی بیویوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہیں میرے ساتھ بھوکا رہنا ہوگا ورنہ طلاق لے لو۔ لیکن رسول اللہﷺ کے لیے ایسا اعلان واجب تھا کیونکہ آپ کی شان بہت بلند ہے۔ نبی کے گھر میں نبوی مزاج والی عورتیں ہی مناسب ہیں تاکہ نبی کو پریشانی نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کا درجہ بھی بلند رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ﴾
(2) خیروبھلائی کے کاموں میں سبقت کرنی چاہیے اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ا س کا اجر عظیم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3203 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2053 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: ” عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا “، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» (سورة الأحزاب: 28) ” اے نبی! اپنی بیویو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2053]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: ” عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا “، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» (سورة الأحزاب: 28) ” اے نبی! اپنی بیویو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2053]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے ان تک اللہ کا یہ پیغام پہنچایا۔
(2)
اس میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی رسو ل اللہﷺ سے محبت کا بیان ہے۔
(3)
امہات المومنین کے عظیم ایمان اور آخرت کےاجر و ثواب کی طلب کا ذکر ہے جس کی وجہ سے انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کے ثواب کے حصول کا فیصلہ فرمالیا۔
(4)
رسول اللہﷺ کی یہ خواہش کہ والدین سے مشورہ کرکے جواب دیں، اس لیے تھی کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کم عمری کی وجہ سے کوئی غلط جذباتی فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔
(5)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدین کے ایمان کی پختگی اور ایمانی فراست پر نبیﷺ کا اعتماد۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سب سے پہلے ان تک اللہ کا یہ پیغام پہنچایا۔
(2)
اس میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی رسو ل اللہﷺ سے محبت کا بیان ہے۔
(3)
امہات المومنین کے عظیم ایمان اور آخرت کےاجر و ثواب کی طلب کا ذکر ہے جس کی وجہ سے انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کے ثواب کے حصول کا فیصلہ فرمالیا۔
(4)
رسول اللہﷺ کی یہ خواہش کہ والدین سے مشورہ کرکے جواب دیں، اس لیے تھی کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کم عمری کی وجہ سے کوئی غلط جذباتی فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔
(5)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدین کے ایمان کی پختگی اور ایمانی فراست پر نبیﷺ کا اعتماد۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2053 سے ماخوذ ہے۔