حدیث نمبر: 3224M
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالُوا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَجَالٍ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالُوا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یہ حدیث زہری سے بطریق : «علي بن الحسين عن ابن عباس عن رجال من الأنصار» مروی ہے کہتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آگے انہوں نے اسی کی ہم معنی حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3224M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2229

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2229 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے بتلایا، اس اثناء میں کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک ستارہ پھینکا گیا اور اس کی روشنی پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ’’جاہلیت کے دور میں اس طرح تارہ ٹوٹتا تو تم کیا کہتے تھے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، اصل حقیقت اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، ہم کہتے تھے، آج رات کوئی عظیم آدمی پیدا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5819]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
رُمِيَ بِنَجْمٍ: ستارہ ٹوٹتا محسوس ہوا ہے، گویا ستارہ مارا گیا ہے۔
(2)
سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ: حاملین عرش سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور اللہ کے حکم وفیصلے کو عیب ونقص سے مبرا مانتے ہوئے تسبیح کہتے ہیں۔
(3)
يُرْمَوْنَ بِهِ: اجرام فلکیہ یا آسمانی کواکب کے چھوٹے چھوٹے اجزاء شہاب ثاقب ہیں اور ان سے پھوٹنے والی روشنی، جو ان کی تیز رفتاری اور فضائی مادہ کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے۔
اس سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے۔
(4)
يَقْرِفُونَ: وہ ملاوٹ یا آمیزش کرتے ہیں اور اگر یرقون ہوتو معنی ہوگا بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں، اس طرح اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں، گویا يزيدون اس کی تفسیر ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2229 سے ماخوذ ہے۔