حدیث نمبر: 3106M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالدرداء رضی الله عنہ کے واسطہ سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔ اور اس سند میں عطاء بن یسار سے روایت کا ذکر نہیں ہے ۱؎ ، ۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے ۔
فائدہ ۱؎ : اور ابوصالح سمان کا سماع ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ثابت ہے ، اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3106M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2389)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2273 | مسند الحميدي: 395

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2273 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے کی تفسیر کا بیان​۔`
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے (یونس: ۶۴) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2273]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ایک مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم: 1786)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2273 سے ماخوذ ہے۔