سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ .´ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ` ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، اور عبداللہ نے عمرو بن حارث سے ، عمرو نے دراج سے ، دراج نے ابوالہیثم سے اور ابوالہیثم نے ابوسعید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے مگر انہوں نے «يعمر مساجد الله» کی جگہ «يتعاهد المسجد» کہا کہ وہ مسجد کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتا ہے ، ۲- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ابوالھیثم کا نام سلیمان بن عمرو بن عبدالعتواری ہے وہ یتیم تھے اور ان کی پرورش ابو سعید خدری کی گود یعنی سرپرستی میں ہوئی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ” اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں “ (سورۃ التوبہ: ۱۸)۔“ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2617]
(سورۃ توبہ: 18) نوٹ:
(سندمیں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)