سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3046M
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند کے` ساتھ اسی طرح روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ بعض نے یہ حدیث جریری کے واسطہ سے ، عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگہبانی کی جاتی تھی ، اور انہوں نے اس روایت میں عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 31 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
31- طارق بن شہاب کہتے ہیں: یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم لوگوں پر نازل ہوئی ہوتی۔ ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردیا اور تمہارے لیے اسلام کیے دین ہونے سے راضی ہوگیا۔“(5-المائدة:13) تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی؟ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور جمعہ کے دن میں نازل ہوئی تھی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:31]
فائدہ:
اسلام میں صرف دوعید میں ہیں: ➊ عیداالنخی ➋ عید الفطر۔ ان کے علاوہ اسلام نے کسی اور دن کو عید نہیں کہا۔ مسلمانوں کو قرآن وحدیث کی تابعداری کرنی چاہیے، آج کل بعض لوگوں نے دین کے نام پر بدعات وخرافات کو عروج دے رکھا ہے، آئے دن بڑی سے بڑی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، انھی بدعات میں سے عید میلاد النبی بھی ہے، کس طرح نام نہاد ” اہل سنت“ اسلام سے مذاق کر رہے ہیں، الامان والحفیظ۔
ا«لْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» (المائده: 3) واقعتاً عظیم المرتبت آیت ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں: ① دین مکمل ہو گیا ہے، اس میں کسی قسم کے اضافے یا کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی امت کے لیے تکمیل دین ایک بہت بڑا اعزاز و انعام ہے جو امت محمدیہ کو نصیب ہوا۔
② دین اسلام ایک نعمت باری تعالیٰ ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
③ دین اسلام اللہ تعالی کی پسند ہے تو مسلمانوں کوبھی پسند ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے ماہر تھے حتی کہ کوئی آیت کریمہ کہاں اور کب نازل ہوئی ہے، اس کا بھی علم رکھتے تھے۔
اسلام میں صرف دوعید میں ہیں: ➊ عیداالنخی ➋ عید الفطر۔ ان کے علاوہ اسلام نے کسی اور دن کو عید نہیں کہا۔ مسلمانوں کو قرآن وحدیث کی تابعداری کرنی چاہیے، آج کل بعض لوگوں نے دین کے نام پر بدعات وخرافات کو عروج دے رکھا ہے، آئے دن بڑی سے بڑی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، انھی بدعات میں سے عید میلاد النبی بھی ہے، کس طرح نام نہاد ” اہل سنت“ اسلام سے مذاق کر رہے ہیں، الامان والحفیظ۔
ا«لْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» (المائده: 3) واقعتاً عظیم المرتبت آیت ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں: ① دین مکمل ہو گیا ہے، اس میں کسی قسم کے اضافے یا کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی امت کے لیے تکمیل دین ایک بہت بڑا اعزاز و انعام ہے جو امت محمدیہ کو نصیب ہوا۔
② دین اسلام ایک نعمت باری تعالیٰ ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
③ دین اسلام اللہ تعالی کی پسند ہے تو مسلمانوں کوبھی پسند ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے ماہر تھے حتی کہ کوئی آیت کریمہ کہاں اور کب نازل ہوئی ہے، اس کا بھی علم رکھتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔