سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حدیث نمبر: 2914M
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بندار نے ہم سے بطریق : «عبدالرحمٰن بن مهدي عن سفيان عن عاصم» اسی جیسی حدیث بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1464 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرآت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1464]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1464]
1464. اردو حاشیہ: ➊ سورہ مزمل میں حکم ہے کہ [وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا) یعنی قرآن کریم کو ٹھر ٹھر کر پڑھو۔ یعنی جلدی نہ کی جائے۔ اور الفاظ و معنی سے حظ حاصل کیا جائے۔
➋ اس حدیث میں مخلص باعمل حفاظ قراء اور قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنانے والوں کی فضیلت کا بیان ہے۔ کہ عام مسلمانوں کے مقابلے میں یہ لوگ سب سے افضل ہوں گے۔ جب کہ بعض علماء کا یہ قول بھی ہے۔ کہ قرآن کے تقاضوں پر عمل بھی بمعنی قراءت ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ [كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ]
[ص۔29]
یہ عظیم کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ بڑی با برکت ہے۔ تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں۔ اور عقل والے نصیحت پکڑیں۔ اور ایسا حفظ اور ایسی تلاوت جو اخلاص اور عمل سے خالی ہو۔ اس پر مذکورہ درجات مرتب نہیں ہوں گے۔ العیاذ باللہ۔
➋ اس حدیث میں مخلص باعمل حفاظ قراء اور قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنانے والوں کی فضیلت کا بیان ہے۔ کہ عام مسلمانوں کے مقابلے میں یہ لوگ سب سے افضل ہوں گے۔ جب کہ بعض علماء کا یہ قول بھی ہے۔ کہ قرآن کے تقاضوں پر عمل بھی بمعنی قراءت ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ [كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ]
[ص۔29]
یہ عظیم کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ بڑی با برکت ہے۔ تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں۔ اور عقل والے نصیحت پکڑیں۔ اور ایسا حفظ اور ایسی تلاوت جو اخلاص اور عمل سے خالی ہو۔ اس پر مذکورہ درجات مرتب نہیں ہوں گے۔ العیاذ باللہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1464 سے ماخوذ ہے۔