سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ باب: تعلیم قرآن کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : وَهَكَذَا ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ غير مرة ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَصْحَابُ سُفْيَانَ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَهُوَ أَصَحُّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ زَادَ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ أَصَحُّ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : مَا أَحَدٌ يَعْدِلُ عِنْدِي شُعْبَةَ ، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ يَذْكُرُ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ : سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي ، وَمَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَحَدٍ بِشَيْءٍ فَسَأَلْتُهُ إِلَّا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ . محمد بن بشار کہتے ہیں : ایسا ہی یحییٰ بن سعید نے اس روایت کو سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے ، ایک نہیں کئی بار ذکر کیا ، اور ان دونوں نے بسند «عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ، ۶- محمد بن بشار کہتے ہیں : اصحاب سفیان اس روایت میں «عن سفيان عن سعد بن عبيدة» کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ محمد بن بشار کہتے ہیں ۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے ، ۷- شعبہ نے اس حدیث کی سند میں سعد بن عبیدہ کا اضافہ کیا ہے تو ان سفیان کی حدیث ( جو شعبہ کے ہم سبق ہیں ) زیادہ صحیح ہے ۔ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میرے نزدیک شعبہ کے برابر کوئی ( ثقہ ) نہیں ہے ۔ اور جب سفیان ان کی مخالفت کرتے ہیں تو میں سفیان کی بات لے لیتا ہوں ، ۸- میں نے ابوعمار کو وکیع کے واسطہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : شعبہ نے کہا : سفیان مجھ سے زیادہ قوی حافظہ والے ہیں ۔ ( اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ) مجھ سے سفیان نے کسی شخص سے کوئی چیز روایت کی تو میں نے اس شخص سے وہ چیز ( براہ راست ) پوچھی تو میں نے ویسا ہی پایا جیسا سفیان مجھ سے بیان کیا تھا ، ۹- اس باب میں علی اور سعد سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رحم اللہ أجمعین۔
1۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتدائے خلافت سے حجاج بن یوسف کی امارت کے انتہا تک تقریباً بہتر(72)
سال کی مدت ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخر سے حجاج بن یوسف کی امارت کے آغاز تک تقریباً اڑتیس (38)
سال کا وقفہ ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کب پڑھانا شروع کی اور کب اس کی انتہا ہوئی۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا تمام نیک اعمال سے افضل ہے کیونکہ اس حدیث کے مطابق قرآن مجید پڑھنے پڑھانے والا تمام لوگوں سے بہترہے قرآن پڑھنا اور پڑھانا لازمی طور پر سب نیک اعمال سے افضل ہوگا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کا قاری قرآن کریم کے فقیہ سے افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا قاری بہت بڑا فقیہ ہوتا تھا نماز کی جماعت کے لیے قاری کو اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ وہ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ بھی ہوتا تھا۔
(فتح الباري: 97/9)
1۔
اگر کوئی شخص رات بھر عبادت کرتا رہے وہ اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا۔
جو رات کے وقت صرف ایک گھنٹہ فہم قرآن میں صرف کردے اور قرآن کریم کے مطالب و معانی کی تحقیق میں کچھ وقت گزارے۔
2۔
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ جہاد اور تعلیم قرآن میں سے کون سا عمل افضل ہےتو انھوں نے قرآنی تعلیم کو ترجیح دی اور بطور دلیل یہی حدیث بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 97/9)
اللہ تعالیٰ نے کسی جاہل کو کبھی اپنا ولی قرار نہیں دیا اور جاہل سے مراد وہ شخص ہے جسے بقدر ضرورت بھی قرآن کریم سے آشنائی نہ ہو بلکہ وہ اس سے بالکل بے بہرہ ہو۔
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1452]
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا)، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 211]
قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، لہذا اس کا علم حاصل کرنا بھی دوسرے علوم سے افضل ہے اور اس کی تعلیم دینا بھی دوسرے علوم پڑھانے سے افضل ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں بندوں کی افضیلت کا دارومدار اعمال پر ہے جب کہ دنیا میں عام طور پر مال و دولت، حسن و جمال، یا عہدہ و منصب کو افضیلت کا معیار سمجھا جاتا ہے جو درست نہیں۔
(3)
اس حدیث میں قرآن مجید کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے کی ترغیب ہے۔
(4)
قرآن مجید کے علم میں قرآن مجید کے الفاظ کی تلاوت و تجوید سیکھنا اور سکھانا بھی شامل ہے اور اس کا ترجمہ و تفسیر بھی، چونکہ حدیث نبوی بھی قرآن کی وضاحت ہے، اس لیے حدیث کا علم حاصل کرنے والا اور اس کی تعلیم دینے والا بھی اس شرف میں شریک ہے۔
(5)
قرآن پر عمل نہ کرنے والا اس شرف میں شریک نہیں جیسے کہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔