سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2841M
رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ : سَمِعَ رَجُلًا فِي السُّوقِ يُنَادِي : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : لَمْ أَعْنِكَ ، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يُكَنَّى أَبَا الْقَاسِمِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بازار میں ابوالقاسم کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ تو اس نے کہا : میں نے آپ کو نہیں پکارا ہے ۔ ( یہ سن کر ) آپ نے فرمایا : ” میری کنیت نہ رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالقاسم کنیت رکھنا مکروہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6197 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6197. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اور جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6197]
حدیث حاشیہ: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے کہ شیطان آپ کی صورت میں نظر نہیں آسکتا تاکہ وہ آپ کا نام لے کر خواب میں کسی سے کوئی جھوٹ نہ بول سکے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے والا یقینا جان لیتا ہے کہ میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھا ہے اور یہ امر دیکھنے والے پر کسی نہ کسی طرح سے ظاہر ہو جاتا ہے۔
دوزخ کی وعید اس کے لئے ہے جو خواہ مخواہ جھوٹ موٹ کہے۔
میں نے آپ کو خواب میں دیکھا ہے یا کوئی جھوٹی بات گھڑ کر آپ کے ذمہ لگائے۔
پس جھوٹی احادیث گھڑ نے والے زندہ دوزخی ہیں۔
أعاذنا اللہ منھم آمین۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے والا یقینا جان لیتا ہے کہ میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھا ہے اور یہ امر دیکھنے والے پر کسی نہ کسی طرح سے ظاہر ہو جاتا ہے۔
دوزخ کی وعید اس کے لئے ہے جو خواہ مخواہ جھوٹ موٹ کہے۔
میں نے آپ کو خواب میں دیکھا ہے یا کوئی جھوٹی بات گھڑ کر آپ کے ذمہ لگائے۔
پس جھوٹی احادیث گھڑ نے والے زندہ دوزخی ہیں۔
أعاذنا اللہ منھم آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6197 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6197 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6197. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اور جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6197]
حدیث حاشیہ:
(1)
کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ کسی بچے کا نام محمد نہیں رکھنا چاہیے۔
انہوں نے بطور دلیل یہ روایت پیش کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہو پھر انہیں گالیاں دیتے ہو۔
'' (مسند البزار: 318/2، رقم: 6895)
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں ایک سرکاری حکم جاری کیا کہ کسی نبی کے نام پر اپنے بچوں کے نام نہ رکھو، پھر انہوں نے اس بنا پر چند بچوں کے نام تبدیل کیے، لیکن یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ پیش کردہ روایت صحیح نہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس موقف سے رجوع ثابت ہے۔
جب انہیں پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابو طلحہ کے ایک بیٹے کا نام محمد رکھا تھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 242/19، رقم: 544، وفتح الباري: 702/10) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ روایات سے یہی ثابت کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر بچوں کے نام رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام پر بچوں کے نام رکھنے کی تو خود اجازت دی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ کسی بچے کا نام محمد نہیں رکھنا چاہیے۔
انہوں نے بطور دلیل یہ روایت پیش کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہو پھر انہیں گالیاں دیتے ہو۔
'' (مسند البزار: 318/2، رقم: 6895)
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں ایک سرکاری حکم جاری کیا کہ کسی نبی کے نام پر اپنے بچوں کے نام نہ رکھو، پھر انہوں نے اس بنا پر چند بچوں کے نام تبدیل کیے، لیکن یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ پیش کردہ روایت صحیح نہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس موقف سے رجوع ثابت ہے۔
جب انہیں پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابو طلحہ کے ایک بیٹے کا نام محمد رکھا تھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 242/19، رقم: 544، وفتح الباري: 702/10) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ روایات سے یہی ثابت کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر بچوں کے نام رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام پر بچوں کے نام رکھنے کی تو خود اجازت دی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6197 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6188 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6188. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6188]
حدیث حاشیہ: آپ کی حیات طیبہ میں یہ ممانعت تھی تاکہ اشتباہ نہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6188 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3539 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3539. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ابو لقاسم ﷺ نے فرمایا: ’’میرا نام تو رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3539]
حدیث حاشیہ: حافظ ؒ نے کہا: بعضوں کے نزدیک یہ مطلقاً منع ہے۔
بعضوں نے کہا کہ یہ ممانعت آپ کی زندگی تک تھی۔
بعض نے کہا جمع کرنا منع ہے یعنی محمد ابوالقاسم نام رکھنا۔
قول ثانی کو ترجیح ہے۔
بعضوں نے کہا کہ یہ ممانعت آپ کی زندگی تک تھی۔
بعض نے کہا جمع کرنا منع ہے یعنی محمد ابوالقاسم نام رکھنا۔
قول ثانی کو ترجیح ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3539 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3539 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3539. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ابو لقاسم ﷺ نے فرمایا: ’’میرا نام تو رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3539]
حدیث حاشیہ:
1۔
کنیت،کنایہ سے ماخوذ ہے۔
اس سے مراد وہ لفظ ہے جو انسان کی شخصیت پر صراحت کے ساتھ دلالت نہ کرے،اس سے اشارہ ہوسکے۔
عربی زبان میں کنیت وہ ہے جس سے پہلے اب یا ام ہو۔
عربوں کے ہاں کنیت رکھنامشہور تھا۔
بعض لوگ کنیت سے مشہور ہوتے اور ان کا نام غیر معروف ہوتا،جیسے: ابوطالب اور ابولہب وغیرہ۔
اور بعض پر ان کے نام کا غلبہ ہوتا،کنیت غیر معروف ہوتی مثلاً: عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابوحفص غیرمعروف ہے۔
بہرحال کنیت،نام اور لقب سب علم ہیں جن سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی۔
اس کی دووجوہات بیان کی جاتی ہیں: الف۔
آپ کے فرزند ارجمند کا نام قاسم تھا، اس لیے آپ اس کنیت سے مشہور ہوئے۔
ب۔
آپ لوگوں میں اللہ کامال تقسیم کرتے تھے،چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔
‘‘ (المستدرك علی الصحیحین: 660/2، طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
اس بنا پر آپ کو ابوالقاسم کہا جاتاتھا۔
3۔
احادیث میں اس کی ممانعت آپ کی زندگی کے ساتھ مخصوص تھی۔
اس کے متعلق دیگر مباحث کتاب الادب میں بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
کنیت،کنایہ سے ماخوذ ہے۔
اس سے مراد وہ لفظ ہے جو انسان کی شخصیت پر صراحت کے ساتھ دلالت نہ کرے،اس سے اشارہ ہوسکے۔
عربی زبان میں کنیت وہ ہے جس سے پہلے اب یا ام ہو۔
عربوں کے ہاں کنیت رکھنامشہور تھا۔
بعض لوگ کنیت سے مشہور ہوتے اور ان کا نام غیر معروف ہوتا،جیسے: ابوطالب اور ابولہب وغیرہ۔
اور بعض پر ان کے نام کا غلبہ ہوتا،کنیت غیر معروف ہوتی مثلاً: عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی کنیت ابوحفص غیرمعروف ہے۔
بہرحال کنیت،نام اور لقب سب علم ہیں جن سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی۔
اس کی دووجوہات بیان کی جاتی ہیں: الف۔
آپ کے فرزند ارجمند کا نام قاسم تھا، اس لیے آپ اس کنیت سے مشہور ہوئے۔
ب۔
آپ لوگوں میں اللہ کامال تقسیم کرتے تھے،چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔
‘‘ (المستدرك علی الصحیحین: 660/2، طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
اس بنا پر آپ کو ابوالقاسم کہا جاتاتھا۔
3۔
احادیث میں اس کی ممانعت آپ کی زندگی کے ساتھ مخصوص تھی۔
اس کے متعلق دیگر مباحث کتاب الادب میں بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3539 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 110 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے `
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . . .»
”. . . ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ (اپنی اولاد) کا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: 110]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . . .»
”. . . ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ (اپنی اولاد) کا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: 110]
� تشریح:
ان مسلسل احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگ غلط بات منسوب کر کے دنیا میں خلق کو گمراہ نہ کریں۔ یہ حدیثیں بجائے خود اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عام طور پر احادیث نبوی کا ذخیرہ مفسد لوگوں کے دست برد سے محفوظ رہا ہے اور جتنی احادیث لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیں تھیں ان کو علماءحدیث نے صحیح احادیث سے الگ چھانٹ دیا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ خواب میں اگر کوئی شخص میری صورت دیکھے تو وہ بھی صحیح ہونی چاہئیے، کیونکہ خواب میں شیطان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں نہیں آ سکتا۔
موضوع اور صحیح احادیث کو پرکھنے کے لیے اللہ پاک نے جماعت محدثین خصوصاً حضرت امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہما جیسے اکابر امت کو پیدا فرمایا۔ جنہوں نے اس فن کی وہ خدمت کی کہ جس کی امم سابقہ میں نظیر نہیں مل سکتی، علم الرجال و قوانین جرح و تعدیل وہ ایجاد کئے کہ قیامت تک امت مسلمہ ان پر فخر کیا کرے گی، مگر صد افسوس کہ آج چودہویں صدی میں کچھ ایسے بھی متعصب مقلد جامد وجود میں آ گئے ہیں جو خود ان بزرگوں کو غیرفقیہ ناقابل اعتماد ٹھہرا رہے ہیں، ایسے لوگ محض اپنے مزعومہ تقلیدی مذاہب کی حمایت میں ذخیرہ احادیث نبوی کو مشکوک بنا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ ان کو نیک سمجھ دے۔ آمین۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو غیرفقیہ زود رنج بتلانے والے خود بے سمجھ ہیں جو چھوٹا منہ اور بڑی بات کہہ کر اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مقام کی تفصیل میں جاتے ہوئے صاحب انوارالباری نے جماعت اہل حدیث کو باربار لفظ جماعت غیرمقلدین سے جس طنز و توہین کے ساتھ یاد کیا ہے وہ حد درجہ قابل مذمت ہے مگر تقلید جامد کا اثر ہی یہ ہے کہ ایسے متعصب حضرات نے امت میں بہت سے اکابر کی توہین و تخفیف کی ہے۔ قدیم الایام سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ معاندین نے تو صحابہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ حضرت ابوہریرہ، عقبہ بن عامر، انس بن مالک وغیرہ رضی اللہ عنہم کو غیر فقیہ ٹھہرایا ہے۔
ان مسلسل احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگ غلط بات منسوب کر کے دنیا میں خلق کو گمراہ نہ کریں۔ یہ حدیثیں بجائے خود اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عام طور پر احادیث نبوی کا ذخیرہ مفسد لوگوں کے دست برد سے محفوظ رہا ہے اور جتنی احادیث لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیں تھیں ان کو علماءحدیث نے صحیح احادیث سے الگ چھانٹ دیا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ خواب میں اگر کوئی شخص میری صورت دیکھے تو وہ بھی صحیح ہونی چاہئیے، کیونکہ خواب میں شیطان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں نہیں آ سکتا۔
موضوع اور صحیح احادیث کو پرکھنے کے لیے اللہ پاک نے جماعت محدثین خصوصاً حضرت امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہما جیسے اکابر امت کو پیدا فرمایا۔ جنہوں نے اس فن کی وہ خدمت کی کہ جس کی امم سابقہ میں نظیر نہیں مل سکتی، علم الرجال و قوانین جرح و تعدیل وہ ایجاد کئے کہ قیامت تک امت مسلمہ ان پر فخر کیا کرے گی، مگر صد افسوس کہ آج چودہویں صدی میں کچھ ایسے بھی متعصب مقلد جامد وجود میں آ گئے ہیں جو خود ان بزرگوں کو غیرفقیہ ناقابل اعتماد ٹھہرا رہے ہیں، ایسے لوگ محض اپنے مزعومہ تقلیدی مذاہب کی حمایت میں ذخیرہ احادیث نبوی کو مشکوک بنا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ ان کو نیک سمجھ دے۔ آمین۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو غیرفقیہ زود رنج بتلانے والے خود بے سمجھ ہیں جو چھوٹا منہ اور بڑی بات کہہ کر اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مقام کی تفصیل میں جاتے ہوئے صاحب انوارالباری نے جماعت اہل حدیث کو باربار لفظ جماعت غیرمقلدین سے جس طنز و توہین کے ساتھ یاد کیا ہے وہ حد درجہ قابل مذمت ہے مگر تقلید جامد کا اثر ہی یہ ہے کہ ایسے متعصب حضرات نے امت میں بہت سے اکابر کی توہین و تخفیف کی ہے۔ قدیم الایام سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ معاندین نے تو صحابہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ حضرت ابوہریرہ، عقبہ بن عامر، انس بن مالک وغیرہ رضی اللہ عنہم کو غیر فقیہ ٹھہرایا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 110 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 110 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
110. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرے نام (محمد اور احمد) پر نام رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) پر کنیت نہ رکھو۔ اور یقین کرو جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے یقیناً مجھ ہی کو دیکھا ہے، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ اور جو دانستہ مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:110]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہر صورت میں حرام ہے، خواہ اس کا تعلق بیداری سے ہو یا نیند ہے۔
نیند میں جھوٹ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص نہ دیکھنے کے باوجود کہے کہ میں نے آپ کوخواب میں دیکھا ہے۔
اول تو جھوٹ کسی معاملے میں جائز ہی نہیں۔
اگراس کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے ہو تو اس کی سنگینی حرمت اور بڑھ جاتی ہے۔
احادیث میں ہے کہ جھوٹے خواب بیان کرنے والے کے سامنے قیامت کے دن جوڈالے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ ان میں لگاؤ۔
(أعاذنا الله منه)
. خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کی سعادت ایسی صورت میں بابرکت ہوسکتی ہے جبکہ خواب میں دیکھا ہوا حلیہ کتب حدیث میں موجود آپ کے حلیہ مُبارک کے مطابق ہو۔
آپ کے حلیہ مبارکہ کے متعلق مستند کتاب۔
"الرسول كأنك تراه" بہت مفید ہے،جس کااردو ترجمہ راقم کے قلم سے’’آئینہ جمال نبوت‘‘ کے نام سے دارالسلام نے شائع کیا ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث کے بیان کرنے میں ایک خاص ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے: پہلی حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی کو بیان کیا گیا ہے اور یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوان کے عین مطابق ہے۔
دوسری حدیث حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حدیث کونقل کرنے میں کس قدر احتیاط کرتے تھے۔
تیسری حدیث حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔
اس میں احتیاط کی تشریح کی گئی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کثرت سے بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے، بالکل بیان نہ کرنا ان کا مقصد نہ تھا۔
آخری حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے، اس میں اشارہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہر صورت میں حرام ہے، خواہ اس کا تعلق بیداری سے ہو یا نیند سے۔
(فتح الباري: 268/1)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہر صورت میں حرام ہے، خواہ اس کا تعلق بیداری سے ہو یا نیند ہے۔
نیند میں جھوٹ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص نہ دیکھنے کے باوجود کہے کہ میں نے آپ کوخواب میں دیکھا ہے۔
اول تو جھوٹ کسی معاملے میں جائز ہی نہیں۔
اگراس کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے ہو تو اس کی سنگینی حرمت اور بڑھ جاتی ہے۔
احادیث میں ہے کہ جھوٹے خواب بیان کرنے والے کے سامنے قیامت کے دن جوڈالے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ ان میں لگاؤ۔
(أعاذنا الله منه)
. خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کی سعادت ایسی صورت میں بابرکت ہوسکتی ہے جبکہ خواب میں دیکھا ہوا حلیہ کتب حدیث میں موجود آپ کے حلیہ مُبارک کے مطابق ہو۔
آپ کے حلیہ مبارکہ کے متعلق مستند کتاب۔
"الرسول كأنك تراه" بہت مفید ہے،جس کااردو ترجمہ راقم کے قلم سے’’آئینہ جمال نبوت‘‘ کے نام سے دارالسلام نے شائع کیا ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث کے بیان کرنے میں ایک خاص ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے: پہلی حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی کو بیان کیا گیا ہے اور یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوان کے عین مطابق ہے۔
دوسری حدیث حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حدیث کونقل کرنے میں کس قدر احتیاط کرتے تھے۔
تیسری حدیث حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔
اس میں احتیاط کی تشریح کی گئی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کثرت سے بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے، بالکل بیان نہ کرنا ان کا مقصد نہ تھا۔
آخری حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے، اس میں اشارہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہر صورت میں حرام ہے، خواہ اس کا تعلق بیداری سے ہو یا نیند سے۔
(فتح الباري: 268/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 110 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4965 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی اپنی کنیت ابوالقاسم رکھے تو کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4965]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4965]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ کے حین حیات یہ کنیت اختیار کر نا جائز نہیں تھا، مگر آپ کے بعد علماء نے اجازت دے دی ہے کہ آپ ﷺ کا نام اور رکنیت دونوں رکھے جا سکتے ہیں۔
زندگی میں ممانعت کی وجہ یہ واقعہ تھا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بازار میں تھے کہ ایک شخص نے ابولقاسم کہہ کر آواز دی، آپ نے پیچھت مڑکر دیکھا تو آواز دینے والے نے کہا کہ میں نے آپ کو آواز نہیں دی میں نے تو فلاں شخص کو آواز دی ہے۔
اس واقعے کے بعد آپ نے یہ رکنیت رکھنے سے روک دیا۔
(فتح الباری الاداب حدیث٦١٨٨ مزید تفصیل کے لیے فتح الباری ملاخطہ ہو) جواز کے دلائل اگلےابواب میں آرہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے حین حیات یہ کنیت اختیار کر نا جائز نہیں تھا، مگر آپ کے بعد علماء نے اجازت دے دی ہے کہ آپ ﷺ کا نام اور رکنیت دونوں رکھے جا سکتے ہیں۔
زندگی میں ممانعت کی وجہ یہ واقعہ تھا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بازار میں تھے کہ ایک شخص نے ابولقاسم کہہ کر آواز دی، آپ نے پیچھت مڑکر دیکھا تو آواز دینے والے نے کہا کہ میں نے آپ کو آواز نہیں دی میں نے تو فلاں شخص کو آواز دی ہے۔
اس واقعے کے بعد آپ نے یہ رکنیت رکھنے سے روک دیا۔
(فتح الباری الاداب حدیث٦١٨٨ مزید تفصیل کے لیے فتح الباری ملاخطہ ہو) جواز کے دلائل اگلےابواب میں آرہے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4965 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2120 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2120. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کہ نبی ﷺ ایک دفعہ بازار میں تھے تو ایک شخص نے’’ابو القاسم‘‘ کہہ کر آواز دی۔ جب نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا کہ میں نے تو اس شخص کو بلایا تھا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2120]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں حضرت رسول کریم ﷺ کا بازار میں تشریف لے جانا مذکور ہے۔
ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں ہے، مگر وہاں امانت و دیانت کو قدم قدم پر ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں ہے، مگر وہاں امانت و دیانت کو قدم قدم پر ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2120 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2121 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2121. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کہ ایک شخص نے بقیع میں ’’ابو لقاسم‘‘ کہہ کر پکارا تو نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میرا مقصد آپ کو بلانا نہیں تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2121]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کی مناسبت باب سے یہ ہے کہ اس میں آپ ﷺکے بازار جانے کا ذکر ہے یعنی بقیع میں۔
بعض نے کہا کہ اس زمانہ میں بقیع میں بھی بازار لگا کرتا تھا۔
کنیت کے بارے میں یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک تھا۔
جیسا کہ امام مالک ؒ کا قول ہے۔
بعض نے کہا کہ اس زمانہ میں بقیع میں بھی بازار لگا کرتا تھا۔
کنیت کے بارے میں یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک تھا۔
جیسا کہ امام مالک ؒ کا قول ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2121 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2121 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2121. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کہ ایک شخص نے بقیع میں ’’ابو لقاسم‘‘ کہہ کر پکارا تو نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میرا مقصد آپ کو بلانا نہیں تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ’’میرے نام پر نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2121]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث کو دو طریق سے بیان کیا ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ پہلی روایت میں سوق سے مراد سوق بقیع ہے۔
اس کی تائید مسند احمد کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
راوی بیان کرتا ہے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بقیع میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’اے تاجروں کے گروہ!خریدوفروخت کرتے وقت جھوٹی قسم اور دھوکے وغیرہ میں انسان مبتلا ہوجاتا ہے،لہٰذا تم اس قسم کی لغزش کو صدقے وغیرہ سے دھو دیا کرو‘‘ (مسند أحمد: 6/4)
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں وہاں بازار لگتا ہو۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا بازار جانا ثابت ہوتا ہے،اس لیے بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں مگر وہاں قدم قدم پر امانت ودیانت کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
کافر لوگ رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ رسول کھانا کھاتا اور بازار جاتا ہے،گویا ان کے نزدیک بازار جانا منصب نبوت کے خلاف تھا۔
اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا بازار جانا شان ِرسالت اور منصب امامت کے خلاف نہیں۔
قرآن کریم نے بھی اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔
(الفرقان20: 25)
(1)
امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث کو دو طریق سے بیان کیا ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ پہلی روایت میں سوق سے مراد سوق بقیع ہے۔
اس کی تائید مسند احمد کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
راوی بیان کرتا ہے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بقیع میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’اے تاجروں کے گروہ!خریدوفروخت کرتے وقت جھوٹی قسم اور دھوکے وغیرہ میں انسان مبتلا ہوجاتا ہے،لہٰذا تم اس قسم کی لغزش کو صدقے وغیرہ سے دھو دیا کرو‘‘ (مسند أحمد: 6/4)
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں وہاں بازار لگتا ہو۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا بازار جانا ثابت ہوتا ہے،اس لیے بوقت ضرورت بازار جانا برا نہیں مگر وہاں قدم قدم پر امانت ودیانت کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
کافر لوگ رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ رسول کھانا کھاتا اور بازار جاتا ہے،گویا ان کے نزدیک بازار جانا منصب نبوت کے خلاف تھا۔
اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا بازار جانا شان ِرسالت اور منصب امامت کے خلاف نہیں۔
قرآن کریم نے بھی اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔
(الفرقان20: 25)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2121 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2131 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے بقیع میں دوسرے آدمی کو آواز دی، اے ابو القاسم! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے عرض کی، اے اللہ کے رسول! میرا مقصود آپ نہیں ہیں، (میں نے آپ کو آواز نہیں دی) میں نے تو فلاں کو پکارا ہے، (بلایا ہے) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا نام رکھ لو اور میری کنیت مت رکھو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5586]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی کنیت رکھنے سے اس لیے روکا کہ اس سے التباس پیدا ہوتا تھا، کیونکہ جب ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو ابو القاسم کہہ کر پکارا تو آپ نے خیال کیا مجھے پکارا ہے، اس لیے آپ متوجہ ہوئے، اس نے جب یہ کہا کہ میں نے آپ کو نہیں بلایا، تب آپ نے یہ ارشاد فرمایا، میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عرب عام طور پر دوسرے کو کنیت سے یاد کرتے تھے، خاص کر معزز و محترم فرد کو نام لے کر نہیں پکارتے تھے، اس لیے نام رکھنے کی صورت میں اشتباہ کا احتمال کم تھا اور اس کی ایک وجہ اور ہے، جو آگے آ رہی ہے، اس لیے ابو القاسم کنیت رکھنے کے بارے میں علماء کی مختلف نظریات ہیں (1)
امام مالک، جمہور سلف اور جمہور فقہاء اور علماء کا یہ موقف ہے کہ اس ممانعت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہے، جب کہ اس کنیت رکھنے سے التباس کا خطرہ تھا اور اب التباس کا خدشہ باقی نہیں رہا ہے، اس لیے اب جو چاہے یہ کنیت رکھ سکتا ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(2)
امام شافعی اور اہل ظاہر کا نظریہ یہ ہے، یہ ابو القاسم کنیت رکھنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(3)
امام ابن جریر کے نزدیک یہ نص تنزیہہ یا ادب و احترام کے لیے ہے۔
(4)
یہ کنیت رکھنا اس شخص کے لیے ممنوع ہے، جس کا نام محمد یا احمد ہو اور جس کا یہ نام نہ ہو اس کے لیے ابو القاسم کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بعض متقدمین کا یہی موقف ہے۔
(5)
ابو القاسم کنیت رکھنا، ہر ایک کے لیے ممنوع ہے، اس طرح قاسم نام رکھنا جائز نہیں ہے، تاکہ اس کے باپ کو ابو القاسم نہ کہا جا سکے۔
امام مالک، جمہور سلف اور جمہور فقہاء اور علماء کا یہ موقف ہے کہ اس ممانعت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہے، جب کہ اس کنیت رکھنے سے التباس کا خطرہ تھا اور اب التباس کا خدشہ باقی نہیں رہا ہے، اس لیے اب جو چاہے یہ کنیت رکھ سکتا ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(2)
امام شافعی اور اہل ظاہر کا نظریہ یہ ہے، یہ ابو القاسم کنیت رکھنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے، خواہ اس کا نام محمد یا احمد ہو یا نہ ہو۔
(3)
امام ابن جریر کے نزدیک یہ نص تنزیہہ یا ادب و احترام کے لیے ہے۔
(4)
یہ کنیت رکھنا اس شخص کے لیے ممنوع ہے، جس کا نام محمد یا احمد ہو اور جس کا یہ نام نہ ہو اس کے لیے ابو القاسم کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بعض متقدمین کا یہی موقف ہے۔
(5)
ابو القاسم کنیت رکھنا، ہر ایک کے لیے ممنوع ہے، اس طرح قاسم نام رکھنا جائز نہیں ہے، تاکہ اس کے باپ کو ابو القاسم نہ کہا جا سکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2131 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3737 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3737]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3737]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بقیع مدینہ منورہ کے قریب ایک میدان تھا جس کے ایک حصے میں قبرستان تھا جبکہ باقی میدان میں خرید و فروخت ہوتی تھی۔
آج کل اس میدان میں اہل مدینہ کا قبرستان ہے جسے عرف عام میں ’’جنت البقیع‘‘کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: ’’نبی ﷺ بازار میں تھے کہ ایک آدمی بولا: اے ابوالقاسم!۔
۔
۔
۔
۔‘‘ (صحيح البخاري، المناقب، باب كنية النبى ﷺ، حديث: 3537)
(2)
کنیت سے مراد وہ نام ہے جو اولاد کی نسبت سے ’’ابو‘‘ یا ’’ام‘‘ کے ساتھ رکھا جائے، مثلاً: ابو بکر ؓ اور ام عبداللہ (عائشہ صدیقہ ؓ)
(3)
اس مسئلے میں مختلف اقوال ہیں: امام ابن ماجہ ؒ نے باب کا جو عنوان تحریر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو، وہ ابوالقاسم کنیت نہ رکھے۔
دوسرا آدمی یہ کنیت رکھ سکتا ہے۔
بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ ممانعت صرف نبی ﷺ کی زندگی میں تھی جیسا کہ زیر مطالعہ حدیث سے بھی بطاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بقیع مدینہ منورہ کے قریب ایک میدان تھا جس کے ایک حصے میں قبرستان تھا جبکہ باقی میدان میں خرید و فروخت ہوتی تھی۔
آج کل اس میدان میں اہل مدینہ کا قبرستان ہے جسے عرف عام میں ’’جنت البقیع‘‘کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: ’’نبی ﷺ بازار میں تھے کہ ایک آدمی بولا: اے ابوالقاسم!۔
۔
۔
۔
۔‘‘ (صحيح البخاري، المناقب، باب كنية النبى ﷺ، حديث: 3537)
(2)
کنیت سے مراد وہ نام ہے جو اولاد کی نسبت سے ’’ابو‘‘ یا ’’ام‘‘ کے ساتھ رکھا جائے، مثلاً: ابو بکر ؓ اور ام عبداللہ (عائشہ صدیقہ ؓ)
(3)
اس مسئلے میں مختلف اقوال ہیں: امام ابن ماجہ ؒ نے باب کا جو عنوان تحریر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو، وہ ابوالقاسم کنیت نہ رکھے۔
دوسرا آدمی یہ کنیت رکھ سکتا ہے۔
بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ ممانعت صرف نبی ﷺ کی زندگی میں تھی جیسا کہ زیر مطالعہ حدیث سے بھی بطاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3737 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1178 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1178- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1178]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام یعنی محمد، أحمد یا اکیلا محمد یا اکیلا أحمد نام رکھنا درست ہے، کیونکہ ان کے معنی تعریف کے ہیں، لیکن کوئی ”ابوالقاسم“ کنیت نہیں رکھ سکتا، کیونکہ جب وہ یہ کنیت رکھے گا تو احتمال واقع ہو جائے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ا ”بوالقاسم“ کنیت رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام یعنی محمد، أحمد یا اکیلا محمد یا اکیلا أحمد نام رکھنا درست ہے، کیونکہ ان کے معنی تعریف کے ہیں، لیکن کوئی ”ابوالقاسم“ کنیت نہیں رکھ سکتا، کیونکہ جب وہ یہ کنیت رکھے گا تو احتمال واقع ہو جائے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ا ”بوالقاسم“ کنیت رکھنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1176 سے ماخوذ ہے۔