سنن ترمذي
كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي السَّلاَمِ قَبْلَ الْكَلاَمِ باب: بات چیت سے پہلے سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2699M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ : عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ذَاهِبٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے ، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں ۔