حدیث نمبر: 2639M
n
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2639M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4300)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4300

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4300 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہو گا، پھر اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میرے محافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ پھر فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے؟ وہ آدمی ڈر جائے گا، اور کہے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں، اور آج ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4300]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قیامت کے دن بعض لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جایئں گے۔
دیکھئے: (حدیث: 4286)
اور جہنم میں جانے والے بعض لوگ بھی ایسے ہی ہوں گے۔
جن کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا۔
کیونکہ ان کی سب نیکیاں ضائع ہوچکی ہوں گی۔
دیکھئے: (سورہ کہف: 18: 105)

(2)
نیکیوں کے وزن کا دارومدار خلوص نیت اور اتباع سنت پر ہوگا۔
کوئی نیکی جنتے خلوص سے کی گئی ہوگی۔
اور سنت سے زیادہ جتنی مطابقت رکھے گی اتنا ہی اس کا وزن زیادہ ہوگا۔

(3)
کلمہ شہادت یعنی توحید ورسالت پر دل سے ایمان لانا ایسا عمل ہے جس سے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
اس لئے اگر کسی شخص کو ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دینے کاموقع نہیں ملا۔
اور وہ فوت ہوگیا تو اس کا کلمہ شہادت اس کی نجات کےلئے کافی ہوگا۔
حدیث میں ایسا ہی شخص مراد ہے۔

(4)
اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے مطابق عمل نہ کرنے والے کا کلمہ شہادت اسے جہنم میں جانے سے نہیں بچاسکے گا۔
لیکن وہ گناہوں کی سزا بھگت کر جہنم سے نکل آئے گا۔
اور کلمے کی وجہ سے اس کی نجات ہوجائے گی۔

(5)
جس نے کلمہ شہادت صرف زبان سے ادا کیا۔
دل میں اس پر یقین نہیں رکھا۔
وہ منافق ہے جو دائمی جہنمی ہے۔
اس کی سزا عام کافر سے سخت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلَ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا﴾ (النساء 4/ 145)
 ’’منافق یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقے میں جایئں گے ناممکن ہے کہ وہاں آپ کو ان کا کوئی مددگار ملےگا‘‘ (6)
یہ حدیث اہل علم میں حدیث بطاقہ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ حدیث عاصی اہل ایمان کے لئے اللہ عزوجل کی خصوصی رحمت اور کمال مہربانی کا مظہر معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4300 سے ماخوذ ہے۔