سنن ترمذي
كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ باب: جہنمیوں کے مشروب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2584M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، وَفِي رِشْدِينَ مَقَالٌ , وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ كِثَفُ كُلِّ جِدَارٍ يَعْنِي : غِلَظَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر «غساق» ( جہنمیوں کے مواد ) کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے سڑ جائیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں اور رشدین کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے ، ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے ، ۲- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «كثف كل جدار» کا مطلب ہے ہر دیوار کی موٹائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2581 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جہنمیوں کے مشروب کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ” وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے (کافر) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2581]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ” وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے (کافر) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2581]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں (دراج ابوالسمح) اور (رشدین بن سعد) ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں (دراج ابوالسمح) اور (رشدین بن سعد) ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2581 سے ماخوذ ہے۔