سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ باب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2391M
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبٌ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ ، وَقَالَ : ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اس میں انہوں نے «مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ» کی بجائے «مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ» اور «ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ» کی بجائے «ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ» کہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1031 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل امام وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھاوہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہےوہ دو آدمی جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر الگ ہوتے ہیں (ہر حالت میں ایک دوسرے سے اللہ کے لیے محبت کرتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2380]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کا مقصد ان تمام امور خیر کی تلقین اور ترغیب دینا ہے اور امام سے مقصود صاحب منصب عہدہ ہے جس سے وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگرچہ درجات و مراتب میں فرق ہے اپنے عہدہ کے مطابق سایہ ملے گا ظل کی اللہ کی طرف نسبت محض تشریف و تعظیم کے لیے ہے جیسے بیت اللہ ناقۃاللہ اصل مقصد اللہ کے عرش کا سایہ ہے جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت موجود ہے۔
(منة المنعم ج 2 ص112 حاشیہ نمبر91)
اگرچہ درجات و مراتب میں فرق ہے اپنے عہدہ کے مطابق سایہ ملے گا ظل کی اللہ کی طرف نسبت محض تشریف و تعظیم کے لیے ہے جیسے بیت اللہ ناقۃاللہ اصل مقصد اللہ کے عرش کا سایہ ہے جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت موجود ہے۔
(منة المنعم ج 2 ص112 حاشیہ نمبر91)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1031 سے ماخوذ ہے۔