حدیث نمبر: 2347M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا ، قُلْتُ : لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا ، أَوْ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ ، وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وفي الباب عن فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَالْقَاسِمُ هَذَا هُوَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيُكْنَى : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَيُقَالُ أَيْضًا : يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ , وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسی سند سے مزید روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب نے مجھ پر اس بات کو پیش کیا کہ مکہ کی کنکریلی زمین کو سونا بنا دے لیکن میں نے کہا : نہیں اے میرے رب ! میں تو چاہتا ہوں کہ ایک دن آسودہ رہوں اور ایک دن بھوکا “ ، یا فرمایا : ” تین دن “ ، یا اسی کے مانند کچھ اور فرمایا : ” پس جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے لیے عاجزی اور مسکنت ظاہر کروں گا اور تجھے یاد کروں گا ، اور جب آسودہ رہوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد بجا لاؤں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں فضالہ بن عبید سے بھی روایت ہے ، اور قاسم یہ قاسم بن عبدالرحمٰن ہیں جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ، یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، شامی ہیں ، ثقہ ہیں ، ۳- علی بن یزید حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2347M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5189 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1397) //
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4117 | مسند الحميدي: 933

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 933 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
933- سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میرے ساتھیوں میں قدرو منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آجائے، تواس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:933]
فائدہ:
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔