سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَافِ وَالصَّبْرِ عَلَيْهِ باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا ، قُلْتُ : لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا ، أَوْ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ ، وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وفي الباب عن فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَالْقَاسِمُ هَذَا هُوَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيُكْنَى : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَيُقَالُ أَيْضًا : يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ , وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ .´اسی سند سے مزید روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب نے مجھ پر اس بات کو پیش کیا کہ مکہ کی کنکریلی زمین کو سونا بنا دے لیکن میں نے کہا : نہیں اے میرے رب ! میں تو چاہتا ہوں کہ ایک دن آسودہ رہوں اور ایک دن بھوکا “ ، یا فرمایا : ” تین دن “ ، یا اسی کے مانند کچھ اور فرمایا : ” پس جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے لیے عاجزی اور مسکنت ظاہر کروں گا اور تجھے یاد کروں گا ، اور جب آسودہ رہوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد بجا لاؤں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں فضالہ بن عبید سے بھی روایت ہے ، اور قاسم یہ قاسم بن عبدالرحمٰن ہیں جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ، یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، شامی ہیں ، ثقہ ہیں ، ۳- علی بن یزید حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔