حدیث نمبر: 2146M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` مطر بن عکامس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2146M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (110)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 110

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 110 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´چھ قسم کے ملعون`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن مطر بن عكام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ . . .»
. . . سیدنا مطر بن عکامیں رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی شخص کے بارے میں فیصلہ فرماتا ہے کہ وہ فلاں علاقے میں فوت ہو گا تو اللہ اس کو اس علاقے کی طرف (جانے کے) سبب بنا دیتا ہے۔ (احمد، ترمذی) . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 110]
تخریج:
[سنن ترمذي 2146]
تحقیق الحدیث:
صحیح ہے۔
◈ اسے حاکم [1؍42 ح125، 126] اور ذہبی نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
◈ اس میں ابواسحاق السبیعی مدلس راوی ہیں، لیکن سنن الترمذی [2147] میں اس کا بعینہ اسی معنی کا صحیح شاہد بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی نے کہا: «هٰذا حديث صحيح» اس کی سند صحیح ہے۔
اور اسے ابن حبان [الموارد: 1815] حاکم [42/1] اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ جس آدمی کے مرنے کا تقدیر میں جو وقت اور جگہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے وہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔
➋ عقیدہ تقدیر برحق ہے۔
➌ بعض نسخوں میں «عكامس» کی جگہ «عكام» لکھا ہوا ہے جبکہ صحیح «عكامس» ہے جیسا کہ مشکوٰۃ درسی نسخہ ہند ص [22] میں ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 110 سے ماخوذ ہے۔