سنن ترمذي
كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ أَنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا لأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2141M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو قَبِيلٍ اسْمُهُ حُيَيُّ بْنُ هَانِئٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 96 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´انسان کو وہی توفیق ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا`
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كِتَابَانِ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكتابان فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُهُ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ -[36]- ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ فريق فِي الْجنَّة وفريق فِي السعير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”تم لوگ یہ جانتے ہو کہ دونوں کتابیں کیا ہیں جو میرے ان دونوں ہاتھوں میں ہیں؟“ ہم نے عرض کیا کہ حضرت ہمیں نہیں معلوم ہے۔ مگر یہ کہ آپ ہمیں خبر دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے کتاب ہے اس میں جنتیوں کے نام اور جنتیوں کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہوئے ہیں پھر ان کے آخر میں جمع بندی کر دی گئی ہے یعنی کل میزان کر دیا گیا ہے نہ اس میں زیادہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں سے کبھی کمی ہو سکتی ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ پروردگار عالم کی طرف سے کتاب ہے اس میں دوزخیوں کے نام اور ان کے باپوں کے اور دادوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہوئے ہیں اور آخر میں جمع بندی کر دی گئی ہے، نہ اس میں بڑھایا جا سکتا ہے اور نہ گھٹایا جا سکتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ سن کر عرض کیا کہ جب سب کچھ لکھا جا چکا ہے تو عمل کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھا راستہ اور میانہ روی اختیار کرو، اور راہ حق کو مضبوط تھام لو اور اللہ تعالیٰ کی قربت تلاش کرو اس لیے کہ جنتیوں کے آخری کام جنتیوں کے سے ہوں گے، اگرچہ تمام عمر کیسے ہی کام کرتا رہا ہو اور دوزخیوں کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پر ہو گا اگرچہ ساری زندگی کیسا ہی کام کرتا رہا ہو۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اشارہ کیا اور دونوں کتابوں کو رکھ کر فرمایا: ”تمہارا پروردگار سب بندوں کے کاموں سے فارغ ہو گیا ہے یعنی وہ فیصلہ کر چکا ہے کہ ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی اور ایک جماعت دوزخ میں جائے گی۔“ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 96]
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كِتَابَانِ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكتابان فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُهُ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ -[36]- ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ فريق فِي الْجنَّة وفريق فِي السعير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”تم لوگ یہ جانتے ہو کہ دونوں کتابیں کیا ہیں جو میرے ان دونوں ہاتھوں میں ہیں؟“ ہم نے عرض کیا کہ حضرت ہمیں نہیں معلوم ہے۔ مگر یہ کہ آپ ہمیں خبر دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے کتاب ہے اس میں جنتیوں کے نام اور جنتیوں کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہوئے ہیں پھر ان کے آخر میں جمع بندی کر دی گئی ہے یعنی کل میزان کر دیا گیا ہے نہ اس میں زیادہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں سے کبھی کمی ہو سکتی ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ پروردگار عالم کی طرف سے کتاب ہے اس میں دوزخیوں کے نام اور ان کے باپوں کے اور دادوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہوئے ہیں اور آخر میں جمع بندی کر دی گئی ہے، نہ اس میں بڑھایا جا سکتا ہے اور نہ گھٹایا جا سکتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ سن کر عرض کیا کہ جب سب کچھ لکھا جا چکا ہے تو عمل کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھا راستہ اور میانہ روی اختیار کرو، اور راہ حق کو مضبوط تھام لو اور اللہ تعالیٰ کی قربت تلاش کرو اس لیے کہ جنتیوں کے آخری کام جنتیوں کے سے ہوں گے، اگرچہ تمام عمر کیسے ہی کام کرتا رہا ہو اور دوزخیوں کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پر ہو گا اگرچہ ساری زندگی کیسا ہی کام کرتا رہا ہو۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو اشارہ کیا اور دونوں کتابوں کو رکھ کر فرمایا: ”تمہارا پروردگار سب بندوں کے کاموں سے فارغ ہو گیا ہے یعنی وہ فیصلہ کر چکا ہے کہ ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی اور ایک جماعت دوزخ میں جائے گی۔“ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 96]
تخریج:
[سنن ترمذي 2141]
تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند حسن ہے۔
◈ اسے احمد بن حنبل [167/2 ح 6563] نسائی [السنن الكبريٰ: 11473] ابن ابي عاصم [السنة: 348] عثمان بن سعید الدارمی [الرد على الجهمية: 263] جعفر بن محمد الفریابی [كتاب القدر: 45، 46] بیہقی [كتاب القضاء والقدر: 56، 57] ابوبکر الآجری [الشريعة ص 173، 174 ح 333، 334] اور ابونعيم الاصبهاني [حلية الاولياء 168/5] وغیرہم نے: «ابوقبيل حي بن هانئ المعافري عن سفي بن ماتع عن عبدلله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه» کی سند سے بیان کیا ہے۔
◈ امام ترمذی نے فرمایا: «هذا حديث حسن صحيح غريب»
اور اسے عبدالله بن وهب [كتاب القدر: 13] اور ابن جریر [تفسير طبري 5/25] نے: «ابوقبيل عن شفي عن رجل من اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے۔
◈ شفی بن ماتع ثقہ راوی ہیں۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 2813]
◈ ابوقبیل حی بن ہانی کو امام یحییٰ بن معین اور جمہور محدثین نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے، لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں۔ ان پر بذریعہ ساجی امام یحییٰ بن معین کی طرف منسوب جرح ثابت نہیں ہے۔
مسند امام أحمد کے ”محققین“ کا الموسوعۃ الحدیثیہ میں اسے شاذ اور جمہور کے خلاف جرح کی بنیاد پر اس روایت کو ”إسناده ضعيف“ کہنا غلط و مردود ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ عقیدہ تقدیر برحق ہے۔
➋ ہر آدمی کا اپنے باپ کی طرف منسوب ہونا صحیح ہے۔
➌ ثبوت کے بعد قبائل کی طرف انتساب صحیح ہے۔
➍ دونوں ہاتھوں میں دینی کتابیں پکڑنا صحیح ہے۔
➎ چونکہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اللہ کی تقدیر میں اس کے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے، لہٰذا موت تک ہر لحاظ سے صحیح عقیدے کے ساتھ کتاب و سنت پر عمل کرتے رہنا چاہئیے تاکہ خاتمہ ایمان پر ہو۔
[سنن ترمذي 2141]
تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند حسن ہے۔
◈ اسے احمد بن حنبل [167/2 ح 6563] نسائی [السنن الكبريٰ: 11473] ابن ابي عاصم [السنة: 348] عثمان بن سعید الدارمی [الرد على الجهمية: 263] جعفر بن محمد الفریابی [كتاب القدر: 45، 46] بیہقی [كتاب القضاء والقدر: 56، 57] ابوبکر الآجری [الشريعة ص 173، 174 ح 333، 334] اور ابونعيم الاصبهاني [حلية الاولياء 168/5] وغیرہم نے: «ابوقبيل حي بن هانئ المعافري عن سفي بن ماتع عن عبدلله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه» کی سند سے بیان کیا ہے۔
◈ امام ترمذی نے فرمایا: «هذا حديث حسن صحيح غريب»
اور اسے عبدالله بن وهب [كتاب القدر: 13] اور ابن جریر [تفسير طبري 5/25] نے: «ابوقبيل عن شفي عن رجل من اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے۔
◈ شفی بن ماتع ثقہ راوی ہیں۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 2813]
◈ ابوقبیل حی بن ہانی کو امام یحییٰ بن معین اور جمہور محدثین نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے، لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں۔ ان پر بذریعہ ساجی امام یحییٰ بن معین کی طرف منسوب جرح ثابت نہیں ہے۔
مسند امام أحمد کے ”محققین“ کا الموسوعۃ الحدیثیہ میں اسے شاذ اور جمہور کے خلاف جرح کی بنیاد پر اس روایت کو ”إسناده ضعيف“ کہنا غلط و مردود ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ عقیدہ تقدیر برحق ہے۔
➋ ہر آدمی کا اپنے باپ کی طرف منسوب ہونا صحیح ہے۔
➌ ثبوت کے بعد قبائل کی طرف انتساب صحیح ہے۔
➍ دونوں ہاتھوں میں دینی کتابیں پکڑنا صحیح ہے۔
➎ چونکہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اللہ کی تقدیر میں اس کے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے، لہٰذا موت تک ہر لحاظ سے صحیح عقیدے کے ساتھ کتاب و سنت پر عمل کرتے رہنا چاہئیے تاکہ خاتمہ ایمان پر ہو۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 96 سے ماخوذ ہے۔