حدیث نمبر: 2107M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهْمٌ ، وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ ، فَقَالَ : عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ ، قَالُوا : عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَلَدِ عُثْمَانَ ، وَلَا يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` اسامہ رضی الله عنہ سے ایسی ہی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- معمر اور کئی لوگوں نے زہری سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک نے اسے «عن الزهري عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک کی روایت میں وہم ہے اور یہ وہم مالک سے سرزد ہوا ہے ، بعض لوگوں نے اس حدیث کی مالک سے روایت کرتے ہوئے «عن عمرو بن عثمان» کہا ہے ، جب کہ مالک کے اکثر شاگردوں نے «مالك عن عمر بن عثمان» کہا ہے ، ۳- اور عمرو بن عثمان بن عفان مشہور ہیں ، عثمان کے لڑکوں میں سے ہیں اور عمر بن عثمان معروف آدمی نہیں ہیں ، ۴- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۵- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ۶- بعض اہل علم نے مرتد کی میراث کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اس کا مال اس کے مسلمان وارثوں کا ہو گا ، ۷- بعض لوگوں نے کہا ہے : اس کے مسلمان وارث اس کے مال کا وارث نہیں ہوں گے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی اسی حدیث ) «لا يرث المسلم الكافر» یعنی ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ہے “ سے استدلال کیا ہے شافعی کا یہی قول ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2107M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2729)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6764 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
C
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 65 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6764 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6764. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر کسی مسلمان ہی کا وارث بنتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6764]
حدیث حاشیہ:
(1)
وراثت کے لیے ملت کا اتحاد شرط ہے اور دین کا اختلاف محرومی کا باعث ہے، اس لیے کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔
اس کی صورت اس طرح ہے کہ ایک مسلمان فوت ہوا، اس کے دو بیٹے تھے، ان میں ایک مسلمان اور دوسرا کافر، تو کافر مسلمان کی جائیداد کا وارث نہیں ہوگا اگرچہ تقسیم ترکہ سے پہلے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں کے خلاف ہرگز کوئی راستہ نہیں دےگا۔
‘‘ (النساء 4: 141)
اگر کافر کو مسلمان کا وارث بنایا جائے تو اسے مسلمان پر راہ مل جاتی ہے جو قرآن کے خلاف ہے۔
(2)
بہرحال کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اس امر پر تمام علماء کا اتفاق ہے، لیکن کافر کا وارث مسلمان بننے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بیٹے کو اس کے یہودی باپ کا وارث بنایا تھا، لیکن ایسا کرنا صریح نص کے خلاف ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں صراحت ہے۔
اس کی موجودگی میں قیاس وغیرہ کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6764 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4283 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4283. پھر آپ نے فرمایا: ’’مومن، کافر کا وارث نہیں بنتا اور نہ کافر مومن کا وارث بنتا ہے۔‘‘ زہری سے کہا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: عقیل اور طالب وارث ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے رویت کرتے ہوئے کہا: ہم کل کہاں اقامت کریں گے۔ یہ حجۃ الوداع کے وقت کہا تھا۔ البتہ یونس نے اپنی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح مکہ ہی کا زمانہ کہا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4283]
حدیث حاشیہ: عقیل اور طالب اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔
اس لیے ابو طالب کے وہ وارث ہوئے اور علی اور جعفر ؓ کو کچھ ترکہ نہیں ملا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4283 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4283 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4283. پھر آپ نے فرمایا: ’’مومن، کافر کا وارث نہیں بنتا اور نہ کافر مومن کا وارث بنتا ہے۔‘‘ زہری سے کہا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: عقیل اور طالب وارث ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے رویت کرتے ہوئے کہا: ہم کل کہاں اقامت کریں گے۔ یہ حجۃ الوداع کے وقت کہا تھا۔ البتہ یونس نے اپنی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح مکہ ہی کا زمانہ کہا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4283]
حدیث حاشیہ:

ابوطالب کے چار بیتے تھے: طالب،عقیل، جعفر اور علی۔
طالب اورعقیل کافرتھے۔
انھوں نے اپنے باپ کی جائیداد پر قبضہ کرلیا تھا اور حضرت جعفر اورحضرت علی ؓ مسلمان ہونے کی وجہ سے ابوطالب کے وارث نہ بن سکے۔

طالب غزوہ بدر میں ماراگیا اور عقیل متروکہ جائیداد فروخت کرتا رہاتھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عقیل نے ہمارے لیے کیا چھوڑا ہے، جہاں ہم اقامت کریں۔
‘‘ اس طرح کا جواب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا جس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(فتح الباري: 19/8۔
)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4283 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1614 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان، کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4140]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہائے امت کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث نہیں بنے گا، لیکن حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے نزدیک اگر کافر کا کافر وارث موجود نہ ہو اور وہ دارالاسلام میں رہتا ہو، تو پھر اس کا مال، بیت المال کی بجائے، اس کے قریبی مسلمان کو دے دیا جائے گا، لیکن یہ موقف صریح حدیث کے منافی ہے، اس لیے امت نے اس کو قبول نہیں کیا، تو اگر جلیل القدر صحابہ کا قول، صحیح حدیث کی موجودگی میں معتبر نہیں ہے، تو کسی امام کا قول کیسے معتبر ہو سکتا ہے، اس طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا، فقہائے امت کا اس پر اتفاق ہے، ہاں اتنی بات ہے کہ کافر اگر تقسیم ترکہ سے پہلے مسلمان ہو جائے، تو بعض صحابہ اور امام احمد کے نزدیک، وہ وارث ہو گا، لیکن ظاہرا ورثا کا ترکہ میں حق، میت کی موت سے ثابت ہو جاتا ہے، اس لیے جو مرتے وقت، وارث نہیں بنے گا، وہ بعد میں وارث نہیں بن سکے گا، اس لیے حدیث کا یہی تقاضا ہے کہ اس کو وارث نہ مانا جائے، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے، اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1614 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2730 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔`
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے ؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں (ابوطالب کے انتقال کے وقت) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب: إذا أسلم قوم فی دارالحرب، ولهم مال وارضون فهی لهم، حدیث: 3058)
۔

(2)
جب ابوطالب کی وفات ہوئی اس وقت عقیل ؓ مسلمان نہیں تھے، اس لیے عقیل ؓ کو بھی وراثت میں سے حصہ ملا۔
حضرت علی اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہما مسلمان تھے، اس لیے انہوں نے اپنے والد ابوطالب کے وراثت سے حصہ نہ لیا۔
حضرت عقیل ؓ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔

(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ دارالحرب میں رہنےوالا اگر مسلمان ہو جائے تو وہ اپنے گھر اور زمین وغیرہ کا بدستور مالک رہے گا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب إذا أسلم قوم فی دارالحرب.....، حدیث: 3058) 4۔

حافظ ابن حجر حمه الله بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقیل ؓ نے یہ مکان فروخت کردیا تھا۔ (فتح الباری: 3؍571)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2730 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2729 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔`
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
کافر سے ہر غیر مسلم مراد ہے، خواہ وہ اہل کتاب (یہودی یا عیسائی)
ہو، کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو، مثلاً: ہندو، سکھ، بدھ، دہریہ، قادیانی اور بہائی وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2729 سے ماخوذ ہے۔