سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ الْمِيرَاثِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ باب: مسلمان اور کافر کے درمیان وراثت باطل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهْمٌ ، وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ ، فَقَالَ : عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ ، قَالُوا : عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَلَدِ عُثْمَانَ ، وَلَا يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .´اس سند سے بھی` اسامہ رضی الله عنہ سے ایسی ہی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- معمر اور کئی لوگوں نے زہری سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک نے اسے «عن الزهري عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک کی روایت میں وہم ہے اور یہ وہم مالک سے سرزد ہوا ہے ، بعض لوگوں نے اس حدیث کی مالک سے روایت کرتے ہوئے «عن عمرو بن عثمان» کہا ہے ، جب کہ مالک کے اکثر شاگردوں نے «مالك عن عمر بن عثمان» کہا ہے ، ۳- اور عمرو بن عثمان بن عفان مشہور ہیں ، عثمان کے لڑکوں میں سے ہیں اور عمر بن عثمان معروف آدمی نہیں ہیں ، ۴- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۵- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ۶- بعض اہل علم نے مرتد کی میراث کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اس کا مال اس کے مسلمان وارثوں کا ہو گا ، ۷- بعض لوگوں نے کہا ہے : اس کے مسلمان وارث اس کے مال کا وارث نہیں ہوں گے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی اسی حدیث ) «لا يرث المسلم الكافر» یعنی ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ہے “ سے استدلال کیا ہے شافعی کا یہی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
وراثت کے لیے ملت کا اتحاد شرط ہے اور دین کا اختلاف محرومی کا باعث ہے، اس لیے کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔
اس کی صورت اس طرح ہے کہ ایک مسلمان فوت ہوا، اس کے دو بیٹے تھے، ان میں ایک مسلمان اور دوسرا کافر، تو کافر مسلمان کی جائیداد کا وارث نہیں ہوگا اگرچہ تقسیم ترکہ سے پہلے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں کے خلاف ہرگز کوئی راستہ نہیں دےگا۔
‘‘ (النساء 4: 141)
اگر کافر کو مسلمان کا وارث بنایا جائے تو اسے مسلمان پر راہ مل جاتی ہے جو قرآن کے خلاف ہے۔
(2)
بہرحال کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اس امر پر تمام علماء کا اتفاق ہے، لیکن کافر کا وارث مسلمان بننے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بیٹے کو اس کے یہودی باپ کا وارث بنایا تھا، لیکن ایسا کرنا صریح نص کے خلاف ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں صراحت ہے۔
اس کی موجودگی میں قیاس وغیرہ کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
واللہ أعلم
اس لیے ابو طالب کے وہ وارث ہوئے اور علی اور جعفر ؓ کو کچھ ترکہ نہیں ملا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے۔
1۔
ابوطالب کے چار بیتے تھے: طالب،عقیل، جعفر اور علی۔
طالب اورعقیل کافرتھے۔
انھوں نے اپنے باپ کی جائیداد پر قبضہ کرلیا تھا اور حضرت جعفر اورحضرت علی ؓ مسلمان ہونے کی وجہ سے ابوطالب کے وارث نہ بن سکے۔
2۔
طالب غزوہ بدر میں ماراگیا اور عقیل متروکہ جائیداد فروخت کرتا رہاتھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عقیل نے ہمارے لیے کیا چھوڑا ہے، جہاں ہم اقامت کریں۔
‘‘ اس طرح کا جواب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا جس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(فتح الباري: 19/8۔
)
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہائے امت کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث نہیں بنے گا، لیکن حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے نزدیک اگر کافر کا کافر وارث موجود نہ ہو اور وہ دارالاسلام میں رہتا ہو، تو پھر اس کا مال، بیت المال کی بجائے، اس کے قریبی مسلمان کو دے دیا جائے گا، لیکن یہ موقف صریح حدیث کے منافی ہے، اس لیے امت نے اس کو قبول نہیں کیا، تو اگر جلیل القدر صحابہ کا قول، صحیح حدیث کی موجودگی میں معتبر نہیں ہے، تو کسی امام کا قول کیسے معتبر ہو سکتا ہے، اس طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا، فقہائے امت کا اس پر اتفاق ہے، ہاں اتنی بات ہے کہ کافر اگر تقسیم ترکہ سے پہلے مسلمان ہو جائے، تو بعض صحابہ اور امام احمد کے نزدیک، وہ وارث ہو گا، لیکن ظاہرا ورثا کا ترکہ میں حق، میت کی موت سے ثابت ہو جاتا ہے، اس لیے جو مرتے وقت، وارث نہیں بنے گا، وہ بعد میں وارث نہیں بن سکے گا، اس لیے حدیث کا یہی تقاضا ہے کہ اس کو وارث نہ مانا جائے، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے، اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے “؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں (ابوطالب کے انتقال کے وقت) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب: إذا أسلم قوم فی دارالحرب، ولهم مال وارضون فهی لهم، حدیث: 3058)
۔
(2)
جب ابوطالب کی وفات ہوئی اس وقت عقیل ؓ مسلمان نہیں تھے، اس لیے عقیل ؓ کو بھی وراثت میں سے حصہ ملا۔
حضرت علی اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہما مسلمان تھے، اس لیے انہوں نے اپنے والد ابوطالب کے وراثت سے حصہ نہ لیا۔
حضرت عقیل ؓ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ دارالحرب میں رہنےوالا اگر مسلمان ہو جائے تو وہ اپنے گھر اور زمین وغیرہ کا بدستور مالک رہے گا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب إذا أسلم قوم فی دارالحرب.....، حدیث: 3058) 4۔
حافظ ابن حجر حمه الله بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقیل ؓ نے یہ مکان فروخت کردیا تھا۔ (فتح الباری: 3؍571)
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
فوائد و مسائل:
کافر سے ہر غیر مسلم مراد ہے، خواہ وہ اہل کتاب (یہودی یا عیسائی)
ہو، کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو، مثلاً: ہندو، سکھ، بدھ، دہریہ، قادیانی اور بہائی وغیرہ۔