حدیث نمبر: 2037M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي حَدِيِثِهِ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَنْفَعُ لَكَ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ام منذر انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ۔ اس کے بعد راوی نے یونس بن محمد کی حدیث جیسی حدیث بیان کی جسے وہ فلیح بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں مگر اس میں «أوفق لك» کے بجائے «أنفع لك» ” تمہارے لیے زیادہ مفید ہے “ بیان کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث جید غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2037M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن انظر ما بعده (2038)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3856 | سنن ابن ماجه: 3442

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3856 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھانے میں پرہیزی اور احتیاط کا بیان۔`
ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3856]
فوائد ومسائل:
انسان کو جن چیزوں کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اسکے لیئے نقصان دہ ہیں یا بیماری کا سبب بن سکتی ہیں، اسے ان سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
بیمار انسان کو صحت یابی کے لیئے خصوصی طور پر پرہیز کرنا چاہیئے۔
اور معالج کو بھی چاہیئے کہ اپنے زیرِ علاج مریض کوضرور ی پرہیز کی نشاندہی کرے۔
اور مریض اس پر عمل کرے۔
2) سیدہ سلمی اُمِ منذرؓ ان باسعادت صحابیات میں سے ہیں جنہیں بعیتِ رضوان میں شمولیت کا شرف حاصل ہو تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3856 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3442 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(کھانے پینے میں) پرہیز اور احتیاط کا بیان۔`
ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھا رہے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ٹھہرو! تم بیماری سے کمزور ہو گئے ہو، ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چقندر اور جو پکائے، تو آپ نے فرمایا: ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3442]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیمار کو خوراک میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

(2)
بیمار کو چاہیے کہ وہ چیز کھائے جو اس کے لئے مفید ہو اور اس چیز سے پرہیز کرے۔
جو اس بیماری میں نقصان دہ ہو۔

(3)
سلق کا مطلب محمد فواد عبد الباقی نے کھائی جانے والی نباتات یعنی سبزیاں کیا ہے۔
اور علامہ وحید الزمان خان نے اس لفظ کا ترجمہ چقندر کیا ہے۔

(4)
بیماری کے بعد زود ہضم اور غذایئت والی خوراک استعمال کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3442 سے ماخوذ ہے۔