حدیث نمبر: 1884M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی انس بن مالک سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1884M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3416)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأشربة 26 (5631) ، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028/122) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة 18 (3416) ، ( تحفة الأشراف : 498) ، و مسند احمد (3/119) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5631 | صحيح مسلم: 2028 | سنن ابي داود: 3727 | سنن ابن ماجه: 3416

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5631 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5631. حضرت ثمامہ بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت انس ؓ (پیتے وقت) برتن میں دو یا تین سانس لیتے اور کہتے تھے کہ نبی ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5631]
حدیث حاشیہ: طبرانی کی روایت میں ہے کہ جب آپ کے پاس پانی کا پیالہ آتا تو پہلے آپ بسم اللہ پڑھ کر پینا شروع فرماتے، درمیان میں تین سانس لیتے آخر میں الحمدللہ پڑھتے اور فرمایا کہ پینے کے ابتدا میں بسم اللہ پڑھو آخر میں الحمد للہ کہو (فتح الباری)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5631 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5631 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5631. حضرت ثمامہ بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت انس ؓ (پیتے وقت) برتن میں دو یا تین سانس لیتے اور کہتے تھے کہ نبی ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5631]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پانی پیتے وقت ایک ہی سانس سے نہ پیا جائے بلکہ اس دوران میں تین سانس لیے جائیں اور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے الگ کر دیا جائے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی پانی وغیرہ پیے تو اسے برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے۔
اگر دوبارہ پینا چاہے تو برتن منہ سے ہٹائے، پھر چاہے تو دوبارہ مزید پی لے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3427)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے وقت تین سانس لیتے تھے۔
جب پیالہ منہ کے قریب کرتے تو بسم اللہ پڑھتے اور جب اسے منہ سے ہٹاتے تو الحمدللہ پڑھتے۔
اس طرح تین دفعہ کرتے تھے۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 117/10، والصحیحة للألباني، حدیث: 1277)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5631 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3416 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: تین بار سانس لینے کامطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا پانی پی کر برتن منہ سے ہٹا لیا جائے پھر دوبارہ اور سہ بارہ پانی پیا جائے جیسے حدیث: 3427 میں وضاحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3416 سے ماخوذ ہے۔