سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ باب: زیتون کا تیل کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1851M
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعَمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` معمر نے بسند «زيد بن أسلم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، اس میں انہوں نے عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3319 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´زیتون کے تیل کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3319]
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3319]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دودھ سے حاصل ہونے والے گھی یا جانوروں کی چربی کی نسبت نباتاتی تیل زیادہ مفید ہے۔
(2)
نباتاتی تیلوں میں زیتون کا تیل سب سے عمدہ اور مفید ہے۔
(3)
زیتون کے درخت کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مبارک درخت فرمایا ہے۔ (سورۂ نور: آیت 35)
فوائد و مسائل:
(1)
دودھ سے حاصل ہونے والے گھی یا جانوروں کی چربی کی نسبت نباتاتی تیل زیادہ مفید ہے۔
(2)
نباتاتی تیلوں میں زیتون کا تیل سب سے عمدہ اور مفید ہے۔
(3)
زیتون کے درخت کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مبارک درخت فرمایا ہے۔ (سورۂ نور: آیت 35)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3319 سے ماخوذ ہے۔