حدیث نمبر: 1770M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّهُ كَرِهَ جُلُودَ السِّبَاعِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے ابوالملیح سے روایت ہے کہ` وہ درندوں کی کھالیں مکروہ سمجھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ہم نہیں جانتے کہ سعید بن ابی عروبہ کے سوا کسی نے سند میں «عن أبي المليح ، عن أبيه أسامه بن عمير» کہا ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1770M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4232 | سنن نسائي: 5165 | سنن نسائي: 5166

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4232 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سونے سے دانت بندھوانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4232]
فوائد ومسائل:
(کلاب) کاف پر پیش کے ساتھ۔
کو فہ اور بصرہ کے ما بین ایک جگہ کا نام ہے۔
دورِ جاہلیت میں یہاں دو معرکے ہو ئے تھے۔
ایک بار بنوبکر اور بنو تغلب کے درمیان اور دوسری بار بنو تمیم اور اہلِ حجر کے مابین رن پڑا تھا۔
عرفجہ اس دوسری بار میں شریک ہو ئے تھے۔
اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ سونے کے دانت وغیرہ بنوانا جائز ہے۔
خواہ مرد بنوائے یا عورت مگر زیور صرف عورت کے لیئے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4232 سے ماخوذ ہے۔