حدیث نمبر: 1767M
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ نَحْوَهُ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابوسعید رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب اللباس / حدیث: 1767M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4342)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4020

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4020 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4020]
فوائد ومسائل:

نیا کپڑا پہننے پر مذکورہ بالا دعا پڑھنا مسنون اور مستحب ہے، اسی طرح کپڑا پہننے والےکوبھی دعا دی جائے۔

2: کپڑا ہو یاکوئی اورچیز۔
۔
۔
۔
۔
۔
ہرایک میں بھلائی اور برائی کے دونوں پہلو ہوتے ہیں۔
کپڑے میں بھلائی یہ ہے کہ انسان کے لئےستر اور زینت ہو موسم کے مطابق مفید ہو۔
انسان اسے پہن کر خیر کے کاموں میں مشغول ہو تو یہ اس کی بھلائی ہے اور اس کے برخلاف اس کی برائی ہے۔
مزید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان اسے پہن کر دکھلاوا کرے اور اترتا پھیرے تو اور بھی قبیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4020 سے ماخوذ ہے۔