سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ باب: جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1617M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " فَإِنْ أَبَوْا ، فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ ، فَإِنْ أَبَوْا ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعٌ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَرَوَى غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَذَكَرَ فِيهِ أَمْرَ الْجِزْيَةِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` بریدہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ ہے : «فإن أبوا فخذ منهم الجزية فإن أبوا فاستعن بالله عليهم» یعنی ” اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو ان سے جزیہ لو ، پھر اگر ( جزیہ دینے سے بھی ) انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو “ ۔ وکیع اور کئی لوگوں نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے ، محمد بن بشار کے علاوہ دوسرے لوگوں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت کی ہے اور اس میں جزیہ کا حکم بیان کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1408 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو “، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1408]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو “، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1408]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مردہ کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
2؎:
پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔
وضاحت:
1؎:
مردہ کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
2؎:
پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1408 سے ماخوذ ہے۔