سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ باب: کافر کا قاتل مقتول کے سامان کا حقدار گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَأَنَسٍ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لِلْإِمَامِ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ السَّلَبِ الْخُمُسَ ، وقَالَ الثَّوْرِيُّ : النَّفَلُ ، أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ : مَنْ أَصَابَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَهُوَ جَائِزٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ الْخُمُسُ ، وقَالَ إِسْحَاق : السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا كَثِيرًا ، فَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْهُ الْخُمُسَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .´اس سند سے بھی` ابوقتادہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عوف بن مالک ، خالد بن ولید ، انس اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی ، شافعی اور احمد کا بھی یہی قول ہے ، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مقتول کے سامان سے خمس نکالنے کا امام کو اختیار ہے ، ثوری کہتے ہیں : «نفل» یہی ہے کہ امام اعلان کر دے کہ جو کافروں کا سامان چھین لے وہ اسی کا ہو گا اور جو کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا اور ایسا کرنا جائز ہے ، اس میں خمس واجب نہیں ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ مقتول کا مال قاتل کا ہے مگر جب سامان زیادہ ہو اور امام اس میں سے خمس نکالنا چاہے جیسا کہ عمر بن خطاب نے کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حنین طائف اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک وادی ہے جو مکہ مکرمہ کے مشرقی جانب تقریباً 46کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے آٹھ ہجری میں وہاں جنگ لڑی گئی جس میں ہوازن کے تیر اندازوں سے مقابلہ ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مقتول کافر کا جو سامان ہو وہ قاتل کو دیا جاتا تھا۔
اس سے خمس نہیں لیا جاتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت قتادہ ؓ کو مال سلب دیا جس پر کسی اور شخص نے قبضہ کر لیا تھا لیکن جب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ ابو قتادہ ؓ ہی قاتل ہیں تو آپ نے وہ سازو سامان لے کر ان کے حوالے کردیا رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر میں یہی قاعدہ نافذ کیا تھا پھر غزوہ حنین کے وقت بھی اسے جاری رکھا کہ سلب کا مستحق وہی ہے جو کسی کافر کو قتل کردے یا اس طرح زخمی کردے۔
کہ اس کی زندگی محال ہو۔
ایسی حالت میں جو پاس کھڑا ہوتا ہے اس کا مال سلب میں کوئی حق نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم۔
تو اگر حاکم یا قاضی نے کسی شخص کو زنا یا چوری یا خون کرتے دیکھا تو صرف اپنے علم کی بنا پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باقاعدہ شہادت سے ثبوت نہ ہو۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں قیاس تو یہ تھا کہ ان سب مقدمات میں بھی قاضی کو اپنے علم پر فیصلہ کرنا جائز ہوتا لیکن میں قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں اور استحسان کے رو سے یہ کہتا ہوں کہ قاضی ان مقدمات میں اپنے علم کی بنا پر حکم نہ دے۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی حاکم یا قاضی کسی شخص کو زنا یا چوری یا قتل کرتے دیکھتا ہے تو صرف اپنے علم کی بنیاد پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باضابطہ شہادت سے اسے ثابت نہ کیا جائے، اگر ایسا کیا جائے اور شہادت کے بغیر کوئی فیصلہ کر دیا جائے تو اس سے کئی ایک مفاسد پیدا ہوتے ہیں پھر قاضی جسے چاہے گا، اسے سزادے ڈالے گا۔
2۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی کہتے ہیں کہ قیاس کے مطابق ان سب مقدمات میں قاضی کے لیے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز ہے لیکن میں قیاس کو چھوڑ کر بطور استحسان کہتا ہوں کہ کوئی قاضی اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے، اس میں عافیت کا راستہ ہے۔
(فتح الباري: 200/13)
اب رہی یہ بات کہ فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا، تو یہ بعض نے مکروہ رکھا ہے جب ان لوگوں کے ہاتھ بیچے جو فتنہ میں ناحق پر ہوں۔
اس لیے کہ یہ اعانت ہے گناہ اور معصیت پر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا و تعاونوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان (المائدۃ: 2)
اس جماعت کے ہاتھ جو حق پر ہو بیچنا مکروہ نہیں ہے۔
(وحیدی)
(1)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ حنین کے موقع پر ایک کافر کو قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقتول کا تمام سامان دے دیا،جس میں وہ زرہ تھی جسے انھوں نے فروخت کرکے باغ خریدا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب المغازی میں اسے مفصل طور پر ذکر کیا ہے۔
(صحیح البخاری،المغازی،حدیث: 4823) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ وفساد کے زمانے میں ہتھیار فروخت کرنا ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خریدار کی اعانت ہوتی ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب خریدار کا حال مشتبہ ہو کہ وہ حق پر ہے یا بغاوت کرنے والا ہے۔
اگر اس بات کا یقین ہوجائے کہ خریدار حق پر ہے تو اس کے پاس ہتھیار فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(3)
دراصل امام نوی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ اپنا مال کسی بھی شخص کو فروخت کیا جاسکتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ اس کی تحدید کرنا چاہتے ہیں۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب زرہ فروخت کی تو اس وقت بھی ہنگامی حالات تھے لیکن آپ نے قطعی طور پر ایسے شخص کو زرہ فروخت نہیں کی جس سے مسلمانوں کو خطرہ تھا۔
والله اعلم.
اور بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد، اگرایام تشریق میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مارے گا، تو ائمہ اربعہ کے نزدیک کنکریاں دوبارہ مارنی ہوں گی تیسرے دن احناف اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مار سکتا ہے لیکن روانگی سورج ڈھلنے کے بعد ہو گی۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2717]
جو مال مقتول کے پاس ہو۔
اس کا قاتل ہی اس کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔
اور اسے اصطلاحا ً سلب کہتے ہیں۔
یعنی لباس سواری اور اسلحہ پیچھے اس کے ٹھکانے پر جو کچھ ہو وہ اس میں شامل اور شمار نہیں ہوتا۔
اس کی نقدی اور زیورات جو مخفی ہوتے ہیں۔
ان کے بارے میں اختلاف ہے۔
(نیل الأوطار: 305/7)