سنن ترمذي
كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّفَلِ باب: نفل کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفَلِ مِنَ الْخُمُسِ ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ : لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ وَآخِرِهِ ، قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ مَنْصُورٍ : قُلْتُ لِأَحْمَدَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفَّلَ إِذَا فَصَلَ بِالرُّبُعِ بَعْدَ الْخُمُسِ ، وَإِذَا قَفَلَ بِالثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ " ، فَقَالَ : يُخْرِجُ الْخُمُسَ ثُمَّ يُنَفِّلُ مِمَّا بَقِيَ ، وَلَا يُجَاوِزُ هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا الْحَدِيثُ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : النَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ ، قَالَ إِسْحَاق : هُوَ كَمَا قَالَ .´عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن نفل میں اپنی تلوار ذوالفقار لے لی تھی ، اسی کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس حدیث کو اس سند سے صرف ابن ابی زناد ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- خمس میں سے نفل دینے کی بابت اہل علم کا اختلاف ہے ، مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے کوئی روایت نہیں پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام غزوات میں نفل دیا ہے ، آپ نے بعض غزوات میں نفل دیا ہے ، لیکن یہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے کہ شروع میں دے ، یا آخر میں دے ، ۳- اسحاق بن منصور کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت خمس نکالنے کے بعد بطور نفل ربع دیا ہے اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ثلث دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ خمس نکالتے تھے پھر جو باقی بچتا اسی سے نفل دیتے تھے ، آپ کبھی ثلث سے تجاوز نہیں کرتے تھے ۳؎ ، یہ حدیث مسیب کے قول کے موافق ہے کہ نفل خمس سے دیا جائے گا ، اسحاق بن راہویہ نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے ۔
۳؎: مجاہد کو مال غنیمت میں سے مقرر حصہ کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، اور یہی «نفل» کہلاتا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ زائد حصہ مال غنیمت میں سے ہو گا یا خمس میں سے یا خمس الخمس میں سے؟ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اصل غنیمت میں سے دیا جائے گا، اس اضافی حصہ کی مقدار کی بابت سب کا اتفاق ہے کہ سربراہ و امام یہ حصہ غنیمت کے تہائی حصہ سے زائد دینے کا مجاز نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2852]
فوائد ومسائل: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جنگ کے شروع میں کوئی دستہ بہادری کا خاص انجام دے مثلاً دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور غنیمت حاصل کرے اور غنیمت حاصل کرے تو انھیں اس میں سے چوتھائی حصہ بطور انعام دیا جائے اور اگر کوئی دستہ اس قسم کا کارنامہ اس وقت انجام دے جب لشکر واپس ہو رہا ہو تو انھیں اس غنیمت میں سے تیسرا حصہ انعام دیا جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار (علی رضی اللہ عنہ کو) انعام میں دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2808]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا قراردیا ہے۔ (سورہ انفال آیت: 41)
اسلامی حکومت میں یہ حصہ بیت المال میں داخل ہو کر مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ اپنے ذاتی اخراجات غنیمت کے پانچویں حصے (خمس)
سے پورا کیا کرتے تھے اس لیے جہاد کی ضرورت کے لیے تلوار بھی خمس میں سے لے لی۔
(3)
اس تلوار کو ذوالفقار اس لیے کہتےتھے کہ اس پر کچھ گہرے نشانات تھےجس طرح کمر کی ہڈی کے مہرے ہوتے ہیں۔ (ديكھیے: (النهاية الابن أثير، ماده فقر)