حدیث نمبر: 1185M
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ ، فَقَالَ : أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ ، قَالَ إِسْحَاق : وَإِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى هَذَا فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے شوہر سے خلع لیا ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت گزار نے کا حکم دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- «مختلعہ» ( خلع لینے والی عورت ) کی عدت کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی ہے ، یعنی تین حیض ۔ یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے ، ۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس مذہب کو اختیار کرے تو یہ قوی مذہب ہے ۲؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «خلع» : «خلع الثوب» سے ماخوذ ہے، جس کے معنی لباس اتارنے کے ہیں، شرعی اصطلاح شرع میں عورت کا مہر میں دیا ہوا مال واپس دے کر شوہر سے علاحدگی اختیار کر لینے کو «خلع» کہتے ہیں۔
۲؎: باب کی حدیث اسی قول کی تائید کرتی ہے کہ «خلع» طلاق نہیں فسخ ہے اور «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ «خلع» فسخ نہیں طلاق ہے وہ کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی عدت ہے۔ راجح قول پہلا ہی ہے جو ان دونوں حدیثوں کے موافق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1185M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2058)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15835) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3527 | سنن ابي داود: 2229

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3527 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔`
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور (ایسی مار ماری کہ) اس کا ہاتھ (ہی) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا (جب وہ آئے تو) آپ نے ان سے فرمایا: تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو ۱؎ انہوں نے کہا: اچ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3527]
اردو حاشہ: خلع چونکہ فسخ نکاح ہے‘ ا س لیے اس کی عدت ایک حیض ہے‘ وہ بھی صرف اسبترائے رحم کے لیے‘ یعنی پتہ چل جائے کہ عورت حاملہ ہے یا غیر حاملہ۔ اگر حاملہ ہو تو پھر وہ وضع حمل کے بعد آگے نکاح کرسکے گی۔ اور غیر حاملہ ہونے کی صورت میں ایک حیض کے بعد۔ حضرت ابن عباس اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے بھی یہی صراحت منقول ہے۔ امام شافعی‘ احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔ احناف کے نزدیک خلع طلاق ہے‘ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اس کی عدت تین حیض ہے لیکن ان کا یہ موقف صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3527 سے ماخوذ ہے۔