سنن ترمذي
كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْخُلْعِ باب: خلع کا بیان۔
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ ، فَقَالَ : أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ ، قَالَ إِسْحَاق : وَإِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى هَذَا فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے شوہر سے خلع لیا ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت گزار نے کا حکم دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- «مختلعہ» ( خلع لینے والی عورت ) کی عدت کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی ہے ، یعنی تین حیض ۔ یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے ، ۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس مذہب کو اختیار کرے تو یہ قوی مذہب ہے ۲؎ ۔
۲؎: باب کی حدیث اسی قول کی تائید کرتی ہے کہ «خلع» طلاق نہیں فسخ ہے اور «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ «خلع» فسخ نہیں طلاق ہے وہ کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی عدت ہے۔ راجح قول پہلا ہی ہے جو ان دونوں حدیثوں کے موافق ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور (ایسی مار ماری کہ) اس کا ہاتھ (ہی) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا (جب وہ آئے تو) آپ نے ان سے فرمایا: ” تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو “ ۱؎ انہوں نے کہا: اچ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3527]