سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
حدیث نمبر: 816M
وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ : حَدَّثَنَا بِذَلِكَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن عیینہ نے بسند عمرو بن دینار عن عکرمہ روایت کی کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے ، اس میں عکرمہ نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ، پھر ترمذی نے اپنی سند سے اسے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم … آگے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1884 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´طواف میں اضطباع کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1884]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1884]
1884. اردو حاشیہ: جعرانہ ایک مقام کانام ہے۔اس کو کئی طرح پڑھا گیا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ جیم اور عین دونوں مکسور جب کہ رامشد ومفتوح ہے یہ طائف کی جانب سے میقات احرام ہے۔نبی کریمﷺ کا یہ عمرہ غزوہ حنین وطائف کے بعد ماہ زوالعقدہ سن آٹھ ہجری میں ہوا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1884 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3003 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3003]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3003]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صلح حدیبیہ ذوالقعدہ 6ھ میں ہوئی۔
رسول اللہﷺ چودہ سو صحابہ کے ساتھ یکم ذوالقعدہ کو مدینے سے روانہ ہوئے۔
مکہ شریف کے قریب حدیبیہ کے مقام پر مشرکین نے آپ ﷺ آپ کو روک دیا۔
تب فریقین میں مذاکرات کے بعد یہ طے ہوا کہ مسلمان اگلے سال عمرے لے لیے آ سکتے ہیں۔
چنانچہ وہیں احرام کھول کر قربانیاں کر کے مسلمان واپس آ گئے۔
اس سفر میں اگرچہ عملی طور پر عمرہ ادا نہیں ہوسکا تاہم اس کا ثواب مل گیا اس لیے اسے عمرہ شمار کیا جاتا ہے۔
(3)
عمرۃ القضاء سے مراد وہ عمرہ ہےجو حدیبیہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ادا کیاگیا۔
صلح حدیبیہ کے سفر میں شریک صحابہ میں سے جتنے زندہ تھےسب اس عمرے میں شریک تھے۔
ان کے علاوہ اور مسلمان بھی شریک ہوگئے۔
اس طرح دوہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ذوالقعدہ 7ھ میں عمرہ کیا۔
(3)
شوال 8ھ میں غزوہ حنین پیش آیا جس کی تکمیل غزوہ طائف سے ہوئی اس سے واپسی پررسول اللہﷺ جعرانہ کے مقام پر ٹھہرے اور مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کیا۔
اس سے فارغ ہوکرجعرانه ہی سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔
یہ عمرہ ذوالقعدہ8ھ میں کیا گیا۔
(4)
چوتھا عمرہ رسول اللہﷺ نے حج کے ساتھ کیا۔
اس کے لیے سفر کا آغاز ذوالقعدہ10 ھ کے آخری ایام میں ہوا جبکہ عمرہ کی ادائیگی4 ذوالحجہ کو ہوئی۔
فوائد و مسائل:
(1)
صلح حدیبیہ ذوالقعدہ 6ھ میں ہوئی۔
رسول اللہﷺ چودہ سو صحابہ کے ساتھ یکم ذوالقعدہ کو مدینے سے روانہ ہوئے۔
مکہ شریف کے قریب حدیبیہ کے مقام پر مشرکین نے آپ ﷺ آپ کو روک دیا۔
تب فریقین میں مذاکرات کے بعد یہ طے ہوا کہ مسلمان اگلے سال عمرے لے لیے آ سکتے ہیں۔
چنانچہ وہیں احرام کھول کر قربانیاں کر کے مسلمان واپس آ گئے۔
اس سفر میں اگرچہ عملی طور پر عمرہ ادا نہیں ہوسکا تاہم اس کا ثواب مل گیا اس لیے اسے عمرہ شمار کیا جاتا ہے۔
(3)
عمرۃ القضاء سے مراد وہ عمرہ ہےجو حدیبیہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ادا کیاگیا۔
صلح حدیبیہ کے سفر میں شریک صحابہ میں سے جتنے زندہ تھےسب اس عمرے میں شریک تھے۔
ان کے علاوہ اور مسلمان بھی شریک ہوگئے۔
اس طرح دوہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ذوالقعدہ 7ھ میں عمرہ کیا۔
(3)
شوال 8ھ میں غزوہ حنین پیش آیا جس کی تکمیل غزوہ طائف سے ہوئی اس سے واپسی پررسول اللہﷺ جعرانہ کے مقام پر ٹھہرے اور مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کیا۔
اس سے فارغ ہوکرجعرانه ہی سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔
یہ عمرہ ذوالقعدہ8ھ میں کیا گیا۔
(4)
چوتھا عمرہ رسول اللہﷺ نے حج کے ساتھ کیا۔
اس کے لیے سفر کا آغاز ذوالقعدہ10 ھ کے آخری ایام میں ہوا جبکہ عمرہ کی ادائیگی4 ذوالحجہ کو ہوئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3003 سے ماخوذ ہے۔