سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟
حدیث نمبر: 815M
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، عُمْرَةٌ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَةُ الجِعِرَّانَةِ إِذْ قَسَّمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَحَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ هُوَ أَبُو حَبِيبٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ جَلِيلٌ ثِقَةٌ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادۃ کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے ؟ انہوں نے کہا : صرف ایک حج ۱؎ اور چار عمرے کئے ۔ ایک عمرہ ذی قعدہ میں ، ایک عمرہ حدیبیہ ۲؎ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ ، اور ایک جعرانہ ۳؎ کا عمرہ جب آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حجۃ الوداع ہے۔
۲؎: مکہ سے نو میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ جہاں صلح حدیبیہ منعقد ہوئی تھی۔
۳؎: مکہ سے نو میل کی دوری پر اور ایک قول کے مطابق چھ میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔
۲؎: مکہ سے نو میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ جہاں صلح حدیبیہ منعقد ہوئی تھی۔
۳؎: مکہ سے نو میل کی دوری پر اور ایک قول کے مطابق چھ میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4148 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4148. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے جو سب کے سب ذوالقعدہ میں تھے سوائے اس عمرے کے جو آپ ﷺ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا، دوسرا جو آئندہ سال ذوالقعدہ میں کیا۔ تیسرا عمرہ جعرانه سے جہاں آپ نے حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں، یہ بھی ذوالقعدہ میں کیا۔ اور چوتھا عمرہ اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4148]
حدیث حاشیہ:
پہلا عمرہ جو حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں ہوا، اس میں عمرے کے افعال ادا نہیں کیے تھے کیونکہ مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، لیکن اس وقت عمرے کا احرام باندھا گیا تھا اورقربانی کے جانور بھی ساتھ تھے، اگرچہ طواف وغیرہ نہیں ہوا تھا، تاہم اسے عمرو شمار کیا گیا۔
جعرانہ کا عمرہ چونکہ رات کے وقت ادا کیا تھا، اس لیے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کواس کا علم نہ ہو سکا کیونکہ آپ عشاء کے بعد عمرہ کرنے گئے اور صبح کی نماز واپس آکر پڑھی تھی، اس لیے کچھ حضرات کو اس عمرے کا علم نہ ہوسکا، ان میں سے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی تھے، چنانچہ حضرت نافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا، اگر آپ نے عمرہ کیا ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ پر مخفی نہ رہتا۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3144)
ممکن ہے کہ وہ اس وقت غائب ہوں یا وہ بھول گئے ہوں۔
واللہ اعلم۔
پہلا عمرہ جو حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں ہوا، اس میں عمرے کے افعال ادا نہیں کیے تھے کیونکہ مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، لیکن اس وقت عمرے کا احرام باندھا گیا تھا اورقربانی کے جانور بھی ساتھ تھے، اگرچہ طواف وغیرہ نہیں ہوا تھا، تاہم اسے عمرو شمار کیا گیا۔
جعرانہ کا عمرہ چونکہ رات کے وقت ادا کیا تھا، اس لیے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کواس کا علم نہ ہو سکا کیونکہ آپ عشاء کے بعد عمرہ کرنے گئے اور صبح کی نماز واپس آکر پڑھی تھی، اس لیے کچھ حضرات کو اس عمرے کا علم نہ ہوسکا، ان میں سے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی تھے، چنانچہ حضرت نافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا، اگر آپ نے عمرہ کیا ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ پر مخفی نہ رہتا۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3144)
ممکن ہے کہ وہ اس وقت غائب ہوں یا وہ بھول گئے ہوں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4148 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3066 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3066. حضرت انس ؓسے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے جعرانہ کے مقام سے عمرے کا احرام باندھا جہاں پر آپ نے حنین کی غنائم تقسیم کی تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3066]
حدیث حاشیہ: حنین ایک وادی ہے مکہ سے تین میل پر جہاں پر بڑی لڑائی ہوئی تھی۔
باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ آپ نے جعرانہ میں عین سفر میں اموال غنیمت کو تقسیم فرمایا‘ آج کل ایام حج میں حرم شریف سے جعرانہ کو ہر وقت گاڑیاں ملتی ہیں۔
۱۹۷۰ء کے حج میں مجھ کو بھی جعرانہ جانے کا اتفاق ہوا۔
جہاں ایک وسیع مسجد اور کنواں ہے‘ پر فضا جگہ ہے۔
باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ آپ نے جعرانہ میں عین سفر میں اموال غنیمت کو تقسیم فرمایا‘ آج کل ایام حج میں حرم شریف سے جعرانہ کو ہر وقت گاڑیاں ملتی ہیں۔
۱۹۷۰ء کے حج میں مجھ کو بھی جعرانہ جانے کا اتفاق ہوا۔
جہاں ایک وسیع مسجد اور کنواں ہے‘ پر فضا جگہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3066 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3066 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3066. حضرت انس ؓسے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے جعرانہ کے مقام سے عمرے کا احرام باندھا جہاں پر آپ نے حنین کی غنائم تقسیم کی تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3066]
حدیث حاشیہ:
کچھ اہل علم کا مؤقف ہے کہ غنیمت کا مال دارالحرب میں تقسیم نہ کیا جائے کیونکہ مفتوحہ علاقے پر مکمل کنٹرول غلبے کے بعد ہوتا ہے۔
پورا غلبہ غنیمت کا مال دارالسلام میں محفوظ کرنے ہی سے ہوسکتا ہے،اس لیے دارالحرب میں اسے تقسیم نہ کیا جائے۔
امام بخاری ؒنے ان کی تردید کرتے ہوئے ثابت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت جعرانہ میں تقسیم کیا تھا جو اس وقت میدان جنگ تھا اور اسے دوران سفر میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے جیساکہ مذکورہ بالاحدیث رافع سے معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
کچھ اہل علم کا مؤقف ہے کہ غنیمت کا مال دارالحرب میں تقسیم نہ کیا جائے کیونکہ مفتوحہ علاقے پر مکمل کنٹرول غلبے کے بعد ہوتا ہے۔
پورا غلبہ غنیمت کا مال دارالسلام میں محفوظ کرنے ہی سے ہوسکتا ہے،اس لیے دارالحرب میں اسے تقسیم نہ کیا جائے۔
امام بخاری ؒنے ان کی تردید کرتے ہوئے ثابت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت جعرانہ میں تقسیم کیا تھا جو اس وقت میدان جنگ تھا اور اسے دوران سفر میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے جیساکہ مذکورہ بالاحدیث رافع سے معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3066 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1994 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عمرے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1994]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1994]
1994. اردو حاشیہ: بعض لوگو کہتے ہیں کہ اگر آدمی حج کے مہینوں میں عمرہ کر لے تو اسے حج کرنالازمی ہوجاتاہے۔مگر اس کی کوئی حقیقت نہیں رسول اللہ ﷺ کے پہلے تینوں عمرے زو العقیدہ میں تھے جو حج کا مہینہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1994 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2800 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاجی کا ہدی کو اپنے ساتھ لے جانے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
اردو حاشہ: (1) قربانی کے جانور جو حرم کو لے جائے جائیں، انھیں قلادہ ڈالا جائے۔ اونٹ ہوں تو انھیں اشعار بھی کیا جائے اور انھیں ہانک کر لے جایا جائے۔ سواری والے جانور پیچھے پیچھے چلیں۔ اس میں قربانی کے جانوروں کا احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کا اظہار ہے، نیز وہ اپنی مرضی کے مطابق چلیں گے۔ انھیں پیچھے پیچھے بھاگنا نہیں پڑے گا۔
(2) باب کے یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں: ”قربانی کے جانور ساتھ لے کر جانا“ تو پھر باب کا مقصد یہ ہوگا کہ قربانی کا جانور ساتھ لے جانا افضل ہے بجائے وہاں جا کر خریدنے کے کیونکہ اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور شعائر اللہ کا اظہار بھی ہے۔ سنت رسول یہی ہے، مگر چونکہ آپ کے سامنے کثیر صحابہ اتنی مشقت اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ واللہ أعلم
(2) باب کے یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں: ”قربانی کے جانور ساتھ لے کر جانا“ تو پھر باب کا مقصد یہ ہوگا کہ قربانی کا جانور ساتھ لے جانا افضل ہے بجائے وہاں جا کر خریدنے کے کیونکہ اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور شعائر اللہ کا اظہار بھی ہے۔ سنت رسول یہی ہے، مگر چونکہ آپ کے سامنے کثیر صحابہ اتنی مشقت اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2800 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4424 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسروں کی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
اردو حاشہ: یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ آپ نے سو اونٹ قربانی کیے تھے۔ ان میں سے تریسٹھ (63) آپ نے اپنے دست مبارک سے نحر کیے اور باقی سینتیس (37) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کا نائب بن کر نحر کیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4424 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1306 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1306- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے شریف لائے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قر بانی کے ایک تہائی حصے میں شریک کرلیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 66 اونٹ خود نحر کیے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ باقی 34 اونٹ قربان کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہر اونٹ کا کچھ حصہ لے کر اسے پکایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ سفیان کہتے ہیں: اہل عرب اس لفظ کا تلفظ یوں کرتے ہیں: «وَحَسَوَا» ۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1306]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کی زیادہ مقدار کوئی مقرر نہیں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے، اتنے ہی جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں، ہر انسان کو اپنا جانور خود ذبح کرنا چاہیے، لیکن جانور ذبح کرنے میں اپنا نائب مقرر کرنا بھی درست ہے، اور جن جانوروں کی قربانی کی جائے، ہر ایک سے کچھ کھانا بھی مسنون ہے۔
موجودہ دور میں حاجی حضرات کو قربانی کا گوشت نہیں دیا جاتا، بلکہ ان سے پیسے لے لیے جاتے ہیں، اور ان قربانیوں کا کسی کو علم نہیں ہوتا کہ میرا جانور کس طرح کا ہے، وغیرہ وغیرہ، حاجیوں کو عید الاضحی کے دن بھی بازار سے گوشت خریدنا پڑتا ہے، یہ صورت حال محل نظر ہے، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مملکت سعودیہ کی خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین، انہوں نے واقعی خادم الحرمین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ فجزاهم الله خيرا الجزاء
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کی زیادہ مقدار کوئی مقرر نہیں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے، اتنے ہی جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں، ہر انسان کو اپنا جانور خود ذبح کرنا چاہیے، لیکن جانور ذبح کرنے میں اپنا نائب مقرر کرنا بھی درست ہے، اور جن جانوروں کی قربانی کی جائے، ہر ایک سے کچھ کھانا بھی مسنون ہے۔
موجودہ دور میں حاجی حضرات کو قربانی کا گوشت نہیں دیا جاتا، بلکہ ان سے پیسے لے لیے جاتے ہیں، اور ان قربانیوں کا کسی کو علم نہیں ہوتا کہ میرا جانور کس طرح کا ہے، وغیرہ وغیرہ، حاجیوں کو عید الاضحی کے دن بھی بازار سے گوشت خریدنا پڑتا ہے، یہ صورت حال محل نظر ہے، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مملکت سعودیہ کی خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین، انہوں نے واقعی خادم الحرمین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ فجزاهم الله خيرا الجزاء
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1305 سے ماخوذ ہے۔