سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4006M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3047 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ۱؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3047]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ۱؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3047]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان میں کوئی اچھا اور کوئی برا نہ رہا، سب ایک جیسے مستحق عذاب ہو گئے۔
نوٹ:
(سند میں ابوعبیدہ کا اپنے باپ عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی ان میں کوئی اچھا اور کوئی برا نہ رہا، سب ایک جیسے مستحق عذاب ہو گئے۔
نوٹ:
(سند میں ابوعبیدہ کا اپنے باپ عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3047 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3048 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3048]
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3048]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفرکیا تھا، ان پرداؤد اورمسیح ابن مریم علیھم السلام کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔
کیوں کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔
جو بھی منکر، قوم کرتی، اوراس سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔
وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔
تم اُن میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔
اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبیﷺ پر اور جو چیز اس نبیﷺ پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق وبدکار ہیں‘‘ (المائدہ: 78)
وضاحت:
1؎:
’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفرکیا تھا، ان پرداؤد اورمسیح ابن مریم علیھم السلام کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔
کیوں کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔
جو بھی منکر، قوم کرتی، اوراس سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔
وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔
تم اُن میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔
اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبیﷺ پر اور جو چیز اس نبیﷺ پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق وبدکار ہیں‘‘ (المائدہ: 78)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3048 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4336 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا “ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا “ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336]
فوائد ومسائل:
یہ روایت تو سندَا ضعیف ہے، مگر حقیت یہی ہے کہ اگر فا سقوں، ظالموں اور اہلِ بدعت کے ساتھ للہ فی اللہ بغض نہ رکھا جائےاور مقاطعہ نہ ہو بلکہ ان کے ساتھ آزادانہ اختلاط ہو یوں کہ شرعی غیرت بھی اُٹھ جائے تو اس کا عقاب میرا خیال ہے کہ یہاں پر عذاب ہو نا چاہیئے تھا، انتہائی شدید ہوتا ہے، جیسے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ اور امتِ اسلامیہ کہ موجودہ صورتحال سے طاہر ہے۔
ولا حول ولا قوة إلا باللہ۔
یہ روایت تو سندَا ضعیف ہے، مگر حقیت یہی ہے کہ اگر فا سقوں، ظالموں اور اہلِ بدعت کے ساتھ للہ فی اللہ بغض نہ رکھا جائےاور مقاطعہ نہ ہو بلکہ ان کے ساتھ آزادانہ اختلاط ہو یوں کہ شرعی غیرت بھی اُٹھ جائے تو اس کا عقاب میرا خیال ہے کہ یہاں پر عذاب ہو نا چاہیئے تھا، انتہائی شدید ہوتا ہے، جیسے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ اور امتِ اسلامیہ کہ موجودہ صورتحال سے طاہر ہے۔
ولا حول ولا قوة إلا باللہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4336 سے ماخوذ ہے۔