حدیث نمبر: 3573M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3573M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4093 | مسند الحميدي: 754

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4093 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟`
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
فوائد ومسائل:
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔

2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔

3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4093 سے ماخوذ ہے۔