حدیث نمبر: 2887M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2887M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 17

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 17 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو، کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:17]
فائدہ:
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔