حدیث نمبر: 2574M
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2574M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3839 ، ومصباح الزجاجة : 911 ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1043

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1043 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´زانی کی حد کا بیان`
سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک چھوٹا سا کمزور و نحیف آدمی رہتا تھا۔ وہ ہماری لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ جرم زنا میں ملوث ہو گیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسے حد لگاؤ۔ تو سب لوگ بول اٹھے، اے اللہ کے رسول! وہ تو نہایت ہی کمزور و لاغر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کھجور کے درخت کی ایک ایسی ٹہنی لو جس میں سو شاخیں ہوں۔ پھر اسے ایک ہی دفعہ اس مرد پر مار دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اسے احمد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے لیکن اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1043»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد، حديث:2574، وأحمد:5 /222، والنسائي في الكبرٰي:4 /313، حديث:7309.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر شادی شدہ زانی کسی شدید بیماری کی وجہ سے یا فطری و جبلی طور پر اتنا ناتواں‘ کمزور اور نحیف ہو کہ کوڑوں کی پوری حد سے اس کے جاں بحق ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں حد میں نرمی کی جا سکتی ہے‘ البتہ تعداد میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔
جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ سو شاخوں والی ٹہنی کو اس طرح مارا جائے کہ ہر شاخ اس مجرم کو لگے اور بعض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مارنا کافی ہے‘ ضروری نہیں کہ ہر شاخ مجرم کو لگے۔
اس سے سزا کا نفاذ ہو جائے گا۔
مطلب یہ ہوا کہ شرعی سزائیں مجرم کو جان سے مار دینے کے لیے نہیں بلکہ عبرت دینے اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہیں۔

راویٔ حدیث:
«حضرت سعید بن سعد رضی اللہ عنہما» سعید بن سعد بن عبادہ انصاری ساعدی۔
صحابی تھے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ تابعی تھے۔
ثقہ تھے اور ان سے بہت تھوڑی احادیث مروی ہیں۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں انھیں یمن کا والی مقرر کیا تھا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1043 سے ماخوذ ہے۔