حدیث نمبر: 508M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی جیسی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ذکر کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 508M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 304 | سنن ابي داود: 5043

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 304 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:698]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رات کو انسان اگر بہت جلد بیدار ہو جائے تو دوبارہ سو سکتا ہے جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ دوبارہ سو جانے کی صورت میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رات کے معمولات اور صبح کی نماز سے محروم ہو سکتا ہے اس لیے اس کو نہیں سونا چاہیے اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو پھر سو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 304 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5043 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
فوائد ومسائل:
 باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5043 سے ماخوذ ہے۔