حدیث نمبر: 446M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنَا خَازِمٌ بْنُ يَحْيَي الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 446M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 40 | سنن ابي داود: 148

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 40 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​۔`
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» (ہاتھ کی چھوٹی انگلی) سے ملتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 40 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 148 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پاؤں کی انگلیوں کا خلال`
«. . . عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ . . .»
. . . مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا (ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی) سے ملتے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 148]
فوائد و مسائل:
معلوم ہوا کہ پاؤں کی انگلیوں کا خلال بھی کرنا چاہیے تاکہ کسی جگہ کے خشک رہنے کا احتمال نہ رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 148 سے ماخوذ ہے۔