سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ باب: غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 304M
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا ، فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ ، وَالصَّارُوجُ ، وَالْقِيرُ ، فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ " 10 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ` میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا : یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں ، اور پانی جمع ہوتا ہو ، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا ، گچ اور ڈامر ( تارکول ) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں ، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بہتر یہی ہے کسی بھی طرح کے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 21 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غسل خانے میں پیشاب کرنے کی کراہت۔`
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎ اور فرمایا: ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎ اور فرمایا: ” زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ ممانعت ایسے غسل خانوں کے سلسلے میں ہے جن میں پیشاب زمین میں جذب ہو جاتا ہے، یا رک جاتا ہے، پختہ غسل خانے جن میں پیشاب پانی پڑتے ہی بہہ جاتا ہے ان میں یہ ممانعت نہیں (ملاحظہ ہوسنن ابن ماجہ رقم: 304)
2؎:
امام ترمذی کسی حدیث کے بارے میں جب لفظ ’’غریب‘‘ کہتے ہیں تو ایسی حدیثیں اکثر ضعیف ہوتی ہیں، ایسی ساری احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے، یہ حدیث بھی ضعیف ہے (ضعیف ابی داودرقم6) البتہ ’’غسل خانہ میں پیشاب کی ممانعت‘‘ سے متعلق پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
3؎:
مطلب یہ ہے جو بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، غسل خانوں کے پیشاب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
1؎:
یہ ممانعت ایسے غسل خانوں کے سلسلے میں ہے جن میں پیشاب زمین میں جذب ہو جاتا ہے، یا رک جاتا ہے، پختہ غسل خانے جن میں پیشاب پانی پڑتے ہی بہہ جاتا ہے ان میں یہ ممانعت نہیں (ملاحظہ ہوسنن ابن ماجہ رقم: 304)
2؎:
امام ترمذی کسی حدیث کے بارے میں جب لفظ ’’غریب‘‘ کہتے ہیں تو ایسی حدیثیں اکثر ضعیف ہوتی ہیں، ایسی ساری احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے، یہ حدیث بھی ضعیف ہے (ضعیف ابی داودرقم6) البتہ ’’غسل خانہ میں پیشاب کی ممانعت‘‘ سے متعلق پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
3؎:
مطلب یہ ہے جو بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، غسل خانوں کے پیشاب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 21 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 27 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی ممانعت`
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 27]
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 27]
فوائد و مسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، البتہ اگلی حدیث سنن ابی داود حدیث [28] صحیح ہے جو اسی کے ہم معنیٰ ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، البتہ اگلی حدیث سنن ابی داود حدیث [28] صحیح ہے جو اسی کے ہم معنیٰ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 27 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 36 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غسل خانے میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 36]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 36]
36۔ اردو حاشیہ: ➊ غسل والی جگہ میں پیشاب کرنا منع ہے کیونکہ بعد میں غسل کا پانی وہاں گرے گا اور چھینٹے اڑیں گے، نیز پانی ملنے سے نجاست پھیل جائے گی۔ ویسے بھی عقل سلیم تقاضا کرتی ہے کہ نجاست والی جگہ پر طہارت اور طہارت والی جگہ پر نجاست نہ کی جائے۔ اس سے طبع انسانی کو گھن آتی ہے چاہے نجاست لگنے کا احتمال نہ بھی ہو، جیسے کوئی عقل مند شخص نجاست کے قریب بیٹھ کر کھانا پینا گوارا نہیں کرتا، اسی طرح کا یہ مسئلہ ہے۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ اگر وہاں پیشاب جمع نہ ہوتا ہو، تو پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر یہ فطرت سلیمہ کے خلاف ہے اور اسلام دین فطرت ہے، نیز یہ نص کے ظاہر الفاظ کے عموم کے بھی مخالف لگتا ہے۔
➋ شیخ البانی رحمہ اللہ نے «فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ» کے الفاظ کے سوا باقی پوری حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور انھی کی رائے مضبوط لگتی ہے کیونکہ اس جملے کی تائید دیگر شواہد سے نہیں ہوتی۔ واللہ أعلم۔ دیکھیے: [صحیح سنن النسائي، حدیث: 36]
➋ شیخ البانی رحمہ اللہ نے «فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ» کے الفاظ کے سوا باقی پوری حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور انھی کی رائے مضبوط لگتی ہے کیونکہ اس جملے کی تائید دیگر شواہد سے نہیں ہوتی۔ واللہ أعلم۔ دیکھیے: [صحیح سنن النسائي، حدیث: 36]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 36 سے ماخوذ ہے۔