حدیث نمبر: 296M
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی ، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 296M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3681 ) وانظر ماقبلہ ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 6 | صحيح ابن خزيمه: 69

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 6 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پاخانہ میں جاتے وقت آدمی کیا کہے؟`
«. . . فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ، فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ . . .»
. . . جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 6]
فوائد و مسائل
➊ یہ خبر امور غیبیہ میں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبروں پر من وعن اور بلا چون و چرا ایمان لائیں۔
➋ معلوم ہوا کہ اس دعا کی پابندی سے انسان کئی طرح کی ظاہری و باطنی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، اور آج کل جو گھر گھر میں جنوں اور آسیب کے حملوں کا چرچا ہے اس کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ خود ناپاک رہتے ہیں یا اس سنت مطہرہ کے تارک ہوتے ہیں۔ «اعاذنا الله منها»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 6 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح ابن خزيمه / حدیث: 69 کی شرح از الشیخ محمد فاروق رفیع ✍️
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بیت الخلا میں (شریر و خبیث) جِن حاضر ہوتے ہیں۔ لِہٰذا جب تم میں کوئی شخص ان میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھ لے: «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ» ... [صحيح ابن خزيمه: 69]
فواند:

➊ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل مذکورہ دعا پڑھنا مشروع ہے۔

➋ قضائے حاجت کی جگہیں، بیت الخلاء وغیرہ شیاطین کی آماجگاہ ہیں اور قضائے حاجت کی صورت میں شیطانی حملوں اور وسوسوں سے بچنے کا واحد حل اس مسنون وظیفہ کا اہتمام ہے بصورت دیگر شیاطین انسانوں کو جسمانی اور روحانی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لٰہذا اس دعا کا اہتمام بہر صورت کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 69 سے ماخوذ ہے۔