سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ باب: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 261M
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔
وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2649 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علم چھپانے کی مذمت۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2649]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2649]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوکہ علم دین سے متعلق سوال کرنے والے کو دین کی صحیح بات نہ بتلانا یا دین کی معلومات حاصل کرنے سے متعلق وسائل (مثلا کتابوں وغیرہ) کا انکار کردینا سخت وعید اور گناہ کا باعث ہے، اسی طرح دین کے صحیح مسائل کو اس کی جانکاری کے باوجود چھپانا اور لوگوں کے سامنے واضح نہ کرنا باعث گناہ ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوکہ علم دین سے متعلق سوال کرنے والے کو دین کی صحیح بات نہ بتلانا یا دین کی معلومات حاصل کرنے سے متعلق وسائل (مثلا کتابوں وغیرہ) کا انکار کردینا سخت وعید اور گناہ کا باعث ہے، اسی طرح دین کے صحیح مسائل کو اس کی جانکاری کے باوجود چھپانا اور لوگوں کے سامنے واضح نہ کرنا باعث گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2649 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3658 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپا لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3658]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپا لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3658]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس کا تعلق بقول فضیل بن عیاض فرائض سے ہے۔
جن کا سیکھناعام مسلمان پر فرض ہے۔
تو عالم کو ان کا بتانا فرض ہے۔
علاوہ ازیں جو واجب نہیں۔
ان کا بتانا بھی واجب نہیں۔
واللہ اعلم۔
فائدہ: اس کا تعلق بقول فضیل بن عیاض فرائض سے ہے۔
جن کا سیکھناعام مسلمان پر فرض ہے۔
تو عالم کو ان کا بتانا فرض ہے۔
علاوہ ازیں جو واجب نہیں۔
ان کا بتانا بھی واجب نہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3658 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 266 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 266]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 266]
اردو حاشہ:
جو مسئلہ معلوم نہ ہو، اسے اپنی رائے سے بنا کر بیان کرنا بھی بڑا گناہ ہے۔
ہاں تلاش کے باوجود قرآن یا حدیث میں سے نہ ملے، تب اجتہاد کرنا جائز ہوتا ہے۔
جو مسئلہ معلوم نہ ہو، اسے اپنی رائے سے بنا کر بیان کرنا بھی بڑا گناہ ہے۔
ہاں تلاش کے باوجود قرآن یا حدیث میں سے نہ ملے، تب اجتہاد کرنا جائز ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 266 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 223 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دین کی بات چھپانے والے کے لئے وعید`
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهُ ثُمَّ كَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے دین کی کوئی ایسی بات پوچھی گئی ہو جس کو وہ جانتا ہے۔ پھر اس نے اس کو چھپا لیا یعنی نہیں بتایا، تو قیامت کے روز دینی بات چھپانے کی وجہ سے اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔“ اس حدیث کو احمد و ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 223]
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهُ ثُمَّ كَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے دین کی کوئی ایسی بات پوچھی گئی ہو جس کو وہ جانتا ہے۔ پھر اس نے اس کو چھپا لیا یعنی نہیں بتایا، تو قیامت کے روز دینی بات چھپانے کی وجہ سے اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔“ اس حدیث کو احمد و ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 223]
تحقیق الحدیث:
یہ حدیث حسن ہے۔
اسے ترمذی نے حسن، ابن حبان [الاحسان: 95]، [حاكم 1؍1۔ 1 ح344] اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
◄ عطاء بن ابی رباح کی اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع میں کلام ہے، اگرچہ مستدرک الحاکم میں قاسم بن محمد بن حماد کی روایت میں ان کے سماع کی تصریح موجود ہے۔
◄ قاسم بن محمد الدلال پر تین محدثین نے جرح اور تین نے توثیق کی ہے۔! صحیح ابن حبان [الاحسان: 96] اور المستدرک للحاکم [1؍1۔ 2 ح346 وصححه] وغیرہما میں اس کا حسن لذاتہ شاہد: «من كتم علما ألجمه الله يوم القيامة بلجام من نار.» موجود ہے، جس کے ساتھ یہ حسن ہے۔ «والحمد لله»
فقہ الحدیث:
➊ حق چھپانا حرام ہے۔
➋ دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو علم کی بعض باتیں عام لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا بھی جائز ہے۔ مثلاً: ① نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک بات بتائی پھر اسے لوگوں کو بتانے سے منع کر دیا تھا تاکہ کہیں لوگ اسی پر بھروسا نہ کر بیٹھیں۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 128 - 129] اور [صحيح مسلم 32]
② سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خواب کی تعبیر میں کچھ غلطی لگی تھی، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أصبت بعضا وأخطأت بعضا.»
”تمہاری بعض باتیں صحیح ہیں اور بعض میں غلطی لگی ہے۔“ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ مجھے ضرور بتائیں کہ مجھے کیا غلطی لگی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ کھاؤ۔“ [صحيح بخاري: 7046،صحيح مسلم: 2269]
یعنی آپ نے وہ غلطی انہیں نہیں بتائی تھی، لہٰذا اگر کوئی عذر ہو یا فساد وغیرہ کا ڈر ہو تو بعض باتیں نہ بتانا بھی جائز ہے لیکن اہم موقع اور ضروری بیان کے وقت علم کی بات چھپانا جائز نہیں بلکہ کتمانِ حق ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
③ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک علم (جس کا تعلق سیاسی اُمور سے تھا) بتایا تھا، جسے انہوں نے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کیا۔ ديكهئے: [صحيح بخاري: 120]
➌ سنن ابن ماجہ [264] والی روایت کی سند یوسف بن ابراہیم کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح ابن حبان [96] والے مذکورہ حسن شاہد کی وجہ سے یہ روایت بھی حسن ہے۔
یہ حدیث حسن ہے۔
اسے ترمذی نے حسن، ابن حبان [الاحسان: 95]، [حاكم 1؍1۔ 1 ح344] اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
◄ عطاء بن ابی رباح کی اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع میں کلام ہے، اگرچہ مستدرک الحاکم میں قاسم بن محمد بن حماد کی روایت میں ان کے سماع کی تصریح موجود ہے۔
◄ قاسم بن محمد الدلال پر تین محدثین نے جرح اور تین نے توثیق کی ہے۔! صحیح ابن حبان [الاحسان: 96] اور المستدرک للحاکم [1؍1۔ 2 ح346 وصححه] وغیرہما میں اس کا حسن لذاتہ شاہد: «من كتم علما ألجمه الله يوم القيامة بلجام من نار.» موجود ہے، جس کے ساتھ یہ حسن ہے۔ «والحمد لله»
فقہ الحدیث:
➊ حق چھپانا حرام ہے۔
➋ دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو علم کی بعض باتیں عام لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا بھی جائز ہے۔ مثلاً: ① نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک بات بتائی پھر اسے لوگوں کو بتانے سے منع کر دیا تھا تاکہ کہیں لوگ اسی پر بھروسا نہ کر بیٹھیں۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 128 - 129] اور [صحيح مسلم 32]
② سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خواب کی تعبیر میں کچھ غلطی لگی تھی، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أصبت بعضا وأخطأت بعضا.»
”تمہاری بعض باتیں صحیح ہیں اور بعض میں غلطی لگی ہے۔“ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ مجھے ضرور بتائیں کہ مجھے کیا غلطی لگی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ کھاؤ۔“ [صحيح بخاري: 7046،صحيح مسلم: 2269]
یعنی آپ نے وہ غلطی انہیں نہیں بتائی تھی، لہٰذا اگر کوئی عذر ہو یا فساد وغیرہ کا ڈر ہو تو بعض باتیں نہ بتانا بھی جائز ہے لیکن اہم موقع اور ضروری بیان کے وقت علم کی بات چھپانا جائز نہیں بلکہ کتمانِ حق ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
③ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک علم (جس کا تعلق سیاسی اُمور سے تھا) بتایا تھا، جسے انہوں نے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کیا۔ ديكهئے: [صحيح بخاري: 120]
➌ سنن ابن ماجہ [264] والی روایت کی سند یوسف بن ابراہیم کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح ابن حبان [96] والے مذکورہ حسن شاہد کی وجہ سے یہ روایت بھی حسن ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 223 سے ماخوذ ہے۔