سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 257M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ ، وَكَانَ ثِقَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن نمیر نے معاویہ نصری ثقہ سے` اس اسناد سے اسی طرح حدیث روایت کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4106 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دنیا کے غم و فکر کا بیان۔`
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4106]
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4106]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
دنیا کے تفکرات سے بے نیاز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جائز ضروریات آسانی سے پوری ہوجاتی ہیں اور جو شخص حرص وہوس کی وجہ سے طرح طرح کے تفکرات میں مبتلا ہوتا ہے۔
اس کے تفکرات ختم نہیں ہوتے وہ خود ہی ان میں الجھا ہوا اللہ کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے حدیث: 257 کے فوائد دیکھیے۔
فوائد و مسائل:
دنیا کے تفکرات سے بے نیاز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جائز ضروریات آسانی سے پوری ہوجاتی ہیں اور جو شخص حرص وہوس کی وجہ سے طرح طرح کے تفکرات میں مبتلا ہوتا ہے۔
اس کے تفکرات ختم نہیں ہوتے وہ خود ہی ان میں الجھا ہوا اللہ کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے حدیث: 257 کے فوائد دیکھیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4106 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 263 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´علماء کے لیے غور و فکر کی کچھ احادیث`
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ -[88]- وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر علم والے اپنے علم کی حفاظت کریں اور اس کو اہل علم ہی کے پاس رکھیں یعنی علم کے قدر دانوں کو سکھلائیں تو اپنے زمانے کے سردار بن جائیں لیکن انہوں نے علم کو دنیا داروں پر خرچ کیا یعنی دنیا داروں کے لیے سیکھا تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا داروں کی دولت حاصل کر لیں۔ پس اسی لیے وہ دنیا داروں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گے۔ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جس شخص نے اپنے مقصدوں میں سے صرف ایک مقصد یعنی ہی آخرت کے مقصد کو اختیار کر لیا اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی مقاصد کو پورا کر دیتا ہے اور جس شخص کے دنیاوی بہت سے مقاصد مختلف ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرے گا۔ خواہ کسی جنگل میں یعنی دنیا کی کسی حالت میں ہلاک ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے اوپر نظر رحمت نہیں کرے گا اور نہ اس کے دنیاوی حالت کو درست کرے گا۔ “اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 263]
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ -[88]- وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر علم والے اپنے علم کی حفاظت کریں اور اس کو اہل علم ہی کے پاس رکھیں یعنی علم کے قدر دانوں کو سکھلائیں تو اپنے زمانے کے سردار بن جائیں لیکن انہوں نے علم کو دنیا داروں پر خرچ کیا یعنی دنیا داروں کے لیے سیکھا تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا داروں کی دولت حاصل کر لیں۔ پس اسی لیے وہ دنیا داروں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گے۔ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جس شخص نے اپنے مقصدوں میں سے صرف ایک مقصد یعنی ہی آخرت کے مقصد کو اختیار کر لیا اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی مقاصد کو پورا کر دیتا ہے اور جس شخص کے دنیاوی بہت سے مقاصد مختلف ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرے گا۔ خواہ کسی جنگل میں یعنی دنیا کی کسی حالت میں ہلاک ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے اوپر نظر رحمت نہیں کرے گا اور نہ اس کے دنیاوی حالت کو درست کرے گا۔ “اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 263]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند سخت ضعیف و مردود ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔
اس میں وجہ ضعف دو ہیں: ➊ نہشل بن سعید شدید مجروح اور ساقط العدالت راوی ہے۔
◄ اس کے بارے میں امام ابوداود الطیالسی اور امام اسحاق بن راہویہ دونوں نے کہا: «كذاب» [كتاب الجرح والتعديل 8؍496 وسنده صحيح]
◄ حاکم نیشاپوری نے کہا: «روي عن الضحاك بن مزاحم الموضوعات . . .»
”اس نے ضحاک بن مزاحم سے موضوعات (موضوع روایتیں) بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص218 ت209]
یہ روایت بھی ضحاک سے ہے، لہٰذا موضوع ہے۔
➋ معاویہ بن سلمہ النصری مجہول الحال ہے اور بعض غیر موثق روایتوں میں اس کی توثیق بھی مروی ہے۔ [اخلاق العلماء للآجري ص92] میں یہی روایت «شعيب بن ايوب: أخبرنا عبدالله بن نمير: أخبرنا معاوية النصري . إلخ» کی سند سے موجود ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ نہشل اس روایت کے ساتھ منفرد نہیں ہے، اس روایت کے سارے شواہد ضعیف ہیں۔
تنبیہ:
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كانت الدنيا همه فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره وجعل غناه فى قلبه وأتته الدنيا وهى راغمة .»
”جسے (صرف) دنیا کا ہی غم ہو، اللہ اس کے معاملات منتشر کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں پر غربت طاری کر دیتا ہے، اسے دنیا میں سے وہی ملتا ہے جو اس کی قسمت میں ہے۔ اور جسے آخرت کا غم ہو تو اللہ اس کے معاملات اکٹھے کر دیتا ہے اور اس کے دل میں بےنیازی پیدا کر دیتا ہے، دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه: 4105 وسنده صحيح وحسنه الترمذي: 2656 وصححه ابن حبان: 72 والبوصيري فى زوائد ابن ماجه]
↰ یہ صحیح حدیث سابقہ روایت سے بےنیاز کر دیتی ہے۔
فائدہ:
احوال الدنیا سے پہلے «في» کا لفظ مشکوٰۃ کے نسخوں سے گر گیا ہے، لہٰذا اس کا اضافہ اصل سنن ابن ماجہ سے کیا گیا ہے۔
اس کی سند سخت ضعیف و مردود ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔
اس میں وجہ ضعف دو ہیں: ➊ نہشل بن سعید شدید مجروح اور ساقط العدالت راوی ہے۔
◄ اس کے بارے میں امام ابوداود الطیالسی اور امام اسحاق بن راہویہ دونوں نے کہا: «كذاب» [كتاب الجرح والتعديل 8؍496 وسنده صحيح]
◄ حاکم نیشاپوری نے کہا: «روي عن الضحاك بن مزاحم الموضوعات . . .»
”اس نے ضحاک بن مزاحم سے موضوعات (موضوع روایتیں) بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص218 ت209]
یہ روایت بھی ضحاک سے ہے، لہٰذا موضوع ہے۔
➋ معاویہ بن سلمہ النصری مجہول الحال ہے اور بعض غیر موثق روایتوں میں اس کی توثیق بھی مروی ہے۔ [اخلاق العلماء للآجري ص92] میں یہی روایت «شعيب بن ايوب: أخبرنا عبدالله بن نمير: أخبرنا معاوية النصري . إلخ» کی سند سے موجود ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ نہشل اس روایت کے ساتھ منفرد نہیں ہے، اس روایت کے سارے شواہد ضعیف ہیں۔
تنبیہ:
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كانت الدنيا همه فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره وجعل غناه فى قلبه وأتته الدنيا وهى راغمة .»
”جسے (صرف) دنیا کا ہی غم ہو، اللہ اس کے معاملات منتشر کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں پر غربت طاری کر دیتا ہے، اسے دنیا میں سے وہی ملتا ہے جو اس کی قسمت میں ہے۔ اور جسے آخرت کا غم ہو تو اللہ اس کے معاملات اکٹھے کر دیتا ہے اور اس کے دل میں بےنیازی پیدا کر دیتا ہے، دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه: 4105 وسنده صحيح وحسنه الترمذي: 2656 وصححه ابن حبان: 72 والبوصيري فى زوائد ابن ماجه]
↰ یہ صحیح حدیث سابقہ روایت سے بےنیاز کر دیتی ہے۔
فائدہ:
احوال الدنیا سے پہلے «في» کا لفظ مشکوٰۃ کے نسخوں سے گر گیا ہے، لہٰذا اس کا اضافہ اصل سنن ابن ماجہ سے کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 263 سے ماخوذ ہے۔