حدیث نمبر: 252M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` فلیح بن سلیمان نے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 252M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3664 | مشكوة المصابيح: 227

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3664 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرنے کی برائی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3664]
فوائد ومسائل:
فائدہ: علم ودین شریت کو محض دنیا کا مال ومنصب حاصل کرنے کی غرض سے سیکھنا بہت بڑی شقاوت ہے۔
لازم ہے کہ اللہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کی نیت رکھی جائے۔
اللہ عزوجل دنیا کی ضروریات از خود پوری فرما دے گا، جیسے کہ اہل صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین اور دیگر سلف صالحین کی سیرتوں سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3664 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 227 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ریاکار عالم دین کا انجام`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . -[78]- يَعْنِي رِيحَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس علم کو حاصل کرتا ہے جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے یعنی شرعی علم۔ اس نے اس غرض سے حاصل کیا کہ اس سے دنیا کی متاع حاصل کرے۔ یعنی صرف دنیا کا فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے سیکھے اللہ کی خوشنودی کے لئے نہیں تو قیامت کے روز جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جنت میں داخل ہو گا تو جنت کی خوشبو ضرور پائے گا اور جو نہیں داخل ہو گا تو اس خوشبو سے محروم رہے گا۔ اس حدیث کو احمد، ابن ماجہ، ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ/0: 227]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند حسن لذاتہ ہے۔
◄ اسے ابن حبان [الاحسان: 78، الموارد: 89] اور حاکم [1؍85 ح288] نے صحیح قرار دیا ہے۔

فقہ الحدیث:
➊ نیکی کا ہر کام بالخصوص دینی علم حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت ضروری ہے۔
➋ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
➌ دنیاوی علوم دنیاوی مقاصد کے لئے حاصل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کی ممانعت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو، مثلاً نجومیوں کا علم سیکھنا جائز نہیں، اِلا یہ کہ کوئی عالم اور صحیح العقیدہ شخص ان کا رد کرنے کے لئے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔
➍ اس حدیث میں ممانعت سے اس طرف اشارہ ہے کہ امت میں بعض ایسے بدنصیب لوگ ہوں گے جو دنیا حاصل کرنے کے لئے دینی علوم پڑھیں گے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 227 سے ماخوذ ہے۔