سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 231M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3056 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
فقہ کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔
جس اجتہاد کی بنیاد قرآن وحدیث پر نہیں وہ اجتہاد قابل اعتماد نہیں۔
(2)
علمی مسائل دوسروں تک پہنچانے چاہیں۔
(3)
دین کا علم اس شخص سے بھی حاصل کرلینا چاہیے جو بظاہر علم عمر مرتبے میں کم تر ہو۔
بعض اوقات اس سے ایسا علمی نکتہ مل جاتا ہے کہ جو بڑے علماء سے نہیں ملتا۔
(4)
علم و تفقہ کی کوئی حد نہیں۔
ممکن ہے بعد میں آنے والے کسی شخص کو وہ اجتہادی اور علمی نکتہ سمجھ میں آجائے۔
جس کی طرف پہلے گزرجانے والے بڑے علماء کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔
(5)
مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور کوتاہی نہیں کرتا۔
(6)
مومن کی مومن سے خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔
خواہ دوست یا رشتہ دار ہوں یا اجنبی خواہ ہم وطن ہوں یا دوسرے علاقوں میں رہائش پزیر ہوں۔
(7)
جو شخص دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے۔
اسے بھی دوسروں کی دعائیں پہنچتی ہیں۔ (مزید دیکھیے فوائدومسائل: حدیث: 230)
فوائد و مسائل:
(1)
فقہ کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔
جس اجتہاد کی بنیاد قرآن وحدیث پر نہیں وہ اجتہاد قابل اعتماد نہیں۔
(2)
علمی مسائل دوسروں تک پہنچانے چاہیں۔
(3)
دین کا علم اس شخص سے بھی حاصل کرلینا چاہیے جو بظاہر علم عمر مرتبے میں کم تر ہو۔
بعض اوقات اس سے ایسا علمی نکتہ مل جاتا ہے کہ جو بڑے علماء سے نہیں ملتا۔
(4)
علم و تفقہ کی کوئی حد نہیں۔
ممکن ہے بعد میں آنے والے کسی شخص کو وہ اجتہادی اور علمی نکتہ سمجھ میں آجائے۔
جس کی طرف پہلے گزرجانے والے بڑے علماء کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔
(5)
مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور کوتاہی نہیں کرتا۔
(6)
مومن کی مومن سے خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔
خواہ دوست یا رشتہ دار ہوں یا اجنبی خواہ ہم وطن ہوں یا دوسرے علاقوں میں رہائش پزیر ہوں۔
(7)
جو شخص دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے۔
اسے بھی دوسروں کی دعائیں پہنچتی ہیں۔ (مزید دیکھیے فوائدومسائل: حدیث: 230)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3056 سے ماخوذ ہے۔