حدیث نمبر: 144M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یہ حدیث علی بن محمد` سے «وکیع عن سفیان» کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 144M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3775

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3775 کی شرح از الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری ✍️
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
«. . . عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . . .»
. . . یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں . . . [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ: 3775]
تخریج الحدیث:
[مسند الإمام أحمد:172/4، الأدب المفرد للبخاري:364، سنن الترمذي: 3775، وقال: حسن، سنن ابن ماجة:144، المعجم الكبير للطبراني: 274/22، ح: 702، المستدرك للحاكم: 194/3،ح: 4820، وسنده حسن]
تبصرہ:
↰اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6971] نے ’’صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’صحیح الاسناد کہا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’صحیح قرار دیا ہے۔
❀ ایک روایت میں «حسين مني، وأنا من حسين» کے الفاظ بھی ہیں۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 195 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3775 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3775]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بقول قاضی عیاض: اللہ کے رسول ﷺ من جانب اللہ مطلع کر دیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین ؓ سے بغض رکھیں گے اس لیے آپﷺ نے پیشگی بیان کر دیا کہ ’’حسین ؓ سے محبت مجھ سے محبت ہے، اورحسین ؓ سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں۔

2؎:
یعنی: حسین ؓ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہوگی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3775 سے ماخوذ ہے۔