حدیث نمبر: Q4556
قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ وَعَنْ غَيْرُ وَاحِدٍ إِذَا دَخَلَتِ النَّاقَةُ فِي السَّنَةِ الرَّابِعَةِ فَهُوَ حِقٌّ وَالْأُنْثَى حِقَّةٌ ، لِأَنَّهُ يَسْتَحِقُّ أَنْ يُحْمَلَ عَلَيْهِ وَيُرْكَبَ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَهُوَ جَذَعٌ وَجَذَعَةٌ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ وَثَنِيَّةٌ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّابِعَةِ فَهُوَ رَبَاعٌ وَرَبَاعِيَةٌ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التَّاسِعَةِ وَفَطَرَ نَابُهُ وَطَلَعَ فَهُوَ بَازِلٌ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ مُخْلِفٌ ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ ، وَلَكِنْ يُقَالُ بَازِلُ عَامٍ وَبَازِلُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ عَامٍ وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ إِلَى مَا زَادَ ، وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ : ابْنَةُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ ، وَبْنِتُ لَبُونٍ لِسَنَتَيْنِ ، وَحِقَّةٌ لِثَلَاثٍ ، وَجَذَعَةٌ لِأَرْبَعٍ ، وَثَنِيٌّ لَخَمْسٍ ، وَرَبَاعٌ لِسِتٍّ ، وَسَدِيسٌ لِسَبْعٍ ، وَبَازِلٌ لِثَمَانٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ أَبُو حَاتِمٍ ، وَالْأَصْمَعِيُّ : وَالْجُذُوعَةُ وَقْتٌ وَلَيْسَ بِسِنٍّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ بَعْضُهُمْ : فَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ ، وَإِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : إِذَا لَقِحَتْ فَهِيَ خَلِفَةٌ ، فَلَا تَزَالُ خَلِفَةً إِلَى عَشَرَةِ أَشْهُرٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ فَهِيَ عُشَرَاءُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ ، وَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوداؤد کہتے ہیں` ابو عبید اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا : اونٹ جب چوتھے سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «حق» اور مادہ کو «حقة» کہتے ہیں ، اس لیے کہ اب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس پر بار لادا جائے ، اور سواری کی جائے اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «جذع» اور مادہ کو «جذعة» کہتے ہیں ، اور جب چھٹے سال میں داخل ہو جائے ، اور سامنے کے دانت نکال دے تو نر کو «ثني» اور مادہ کو «ثنية» کہتے ہیں ، اور جب ساتویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «رباع» اور مادہ کو «رباعية» کہتے ہیں ، اور جب آٹھویں سال میں داخل ہو جائے ، اور وہ دانت نکال دے جو «رباعية» کے بعد ہے تو نر کو «سديس» اور مادہ کو «سدس» کہتے ہیں : اور جب نویں سال میں داخل ہو جائے اور اس کی کچلیاں نکل آئیں تو اسے «بازل» کہتے ہیں ، اور جب دسویں سال میں داخل ہو جائے تو وہ «مخلف» ہے ، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا ، البتہ یوں کہا جاتا ہے ایک سال کا ب«بازل» ، دو سال کا «بازل» ایک سال کا «مخلف» ، دو سال کا «مخلف» اسی طرح جتنا بڑھتا جائے ۔ نضر بن شمیل کہتے ہیں : ایک سال کی «بنت مخاض» ہے ، دو سال کی «بنت لبون» ، تین سال کی «حقة» ، چار سال کی «جذعة» پانچ سال کا «ثني» چھ سال کا «رباع» ، سات سال کا «سديس» ، آٹھ سال کا «بازل» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوحاتم اور اصمعی نے کہا : «جذوعة» ایک وقت ہے ناکہ کسی مخصوص سن کا نام ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : جب اونٹ اپنے «رباعیہ» ڈال دے تو وہ «رباع» اور جب «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے ۔ ابو عبید کہتے ہیں : جب وہ حاملہ ہو جائے تو اسے «خلفہ» کہتے ہیں اور وہ دس ماہ تک «خلفة» کہلاتا ہے ، جب دس ماہ کا ہو جائے تو اسے «عشراء» کہتے ہیں ۔ ابوحاتم نے کہا : جب وہ «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے اور «رباعیہ» ڈال دے تو «رباع» ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: Q4556
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 0 | سنن ابي داود: 1652 | معجم صغير للطبراني: 33

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1652 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور (پڑی) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1652]
1652. اردو حاشیہ: ➊ طعام کی اہانت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اسے کیفیت میں پایا جائے تو اُٹھا لینا چاہیے۔اور اسے کھا لینا ہی اس کا صحیح استعمال ہے۔مشکوک اشیاء سے پرہیز لازم ہے۔
➋ امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ کے قول سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے والی حدیث حماد میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فہم زکر ہوا ہے۔ کہ نبی ﷺ صدقے کے اندیشے سے کوئی کھجور نہ اُٹھاتے تھے۔ مگر ہشام اور خالد بن قیس کی روایت میں نبی ﷺ کا اپنا قول زکرہوا ہے۔ہشام کی حدیث صحیح مسلم میں روایت ہوئی ہے۔(صحیح مسلم۔الزکواۃ حدیث 1071) (عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1652 سے ماخوذ ہے۔