حدیث نمبر: 2917M
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2917M
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2732 | بلوغ المرام: 815

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2732 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ولاء یعنی غلام آزاد کرنے پر حاصل ہونے والے حق وراثت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے نکاح کیا، اور ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو اس کے بیٹے زمین جائیداد اور ان کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے، ان سب کو لے کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام گئے، وہ سب طاعون عمواس میں مر گئے تو ان کے وارث عمرو رضی اللہ عنہ ہوئے، جو ان کے عصبہ تھے، اس کے بعد جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام سے لوٹے تو معمر کے بیٹے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی بہن کے ولاء (حق میراث) کا مقدمہ لے کر عم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2732]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وراثت کی تقسیم میں پہلے اصحاب الفروض کو ان کے مقررہ حصے دیے جاتے ہیں۔
جو کچھ ان سے بچے وہ میت کے رشتے داروں کو دیا جاتا ہے۔
اگر آزاد کردہ غلام کے عصبہ رشتےدار نہ ہوں تو آزاد کرنے والا عصبہ کی جگہ وارث ہوگا۔
اگر غلام کے اصحاب الفروض اور عصبہ رشتہ دار نہ ہوں تو سارا ترکہ آزاد کرنے والے کو ملے گا۔

(3)
حضرت ام وائل کی ولاء ان کے بیٹوں کو ملی۔
بیٹوں کی وفات کے بعد ولاء اسی خاندان، یعنی ان بچوں کے دوھیال اور ام وائل کےسسرال میں رہی۔
ام وائل کے میکے اوربچوں کےننھیال والے جو اس ترکے کے دعویدار تھے، ان کا دعویٰ قبول نہیں کیا گیا۔

(3)
عصبہ کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2732 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 815 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´فرائض (وراثت) کا بیان`
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے والد یا اولاد جو کچھ جمع کر کے اپنے گھر میں لائے تو وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے خواہ عصبہ کوئی بھی ہو۔ اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن مدینی اور ابن عبدالبر نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 815»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الفرائض، باب في الولاء، حديث:2917، وابن ماجه، الفرائض، حديث:2732، والنسائي في الكبرٰي:4 /75، حديث:6348.»
تشریح: اس حدیث میں جو مسئلہ بیان ہوا ہے وہ دراصل اس واقعے سے تعلق رکھتا ہے کہ ایک خاتون فوت ہوگئی۔
اس کے بیٹے اس کے وارث ہوئے‘ پھر بیٹے بھی فوت ہوگئے اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ ہونے کی حیثیت سے ان کے وارث بنے‘ پھر اس عورت کا آزاد کردہ غلام بھی فوت ہوگیا تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس غلام کا ورثہ بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔
اس عورت کے بھائیوں نے عورت کے آزاد کردہ غلام کی میراث کا دعویٰ کر دیا۔
اور یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا۔
اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی اور اس آزاد کردہ غلام کی میراث کا فیصلہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا جو کہ اس عورت کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔
واضح رہے کہ ولا‘ یعنی آزاد کردہ غلام کا ترکہ ذوی الفروض کے ورثے کی طرح تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ سب سے قریبی عصبہ کا حصہ ہے۔
اگرچہ بعض نے اس میں اختلاف بھی کیا ہے‘ تاہم صحیح یہی ہے کہ یہ میراث میں تقسیم نہیں ہوتا۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 815 سے ماخوذ ہے۔