سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ باب: جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ نَافِعٌ : أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ لِعُبَادَةَ : سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ ، قَالَ : أَجَلْ ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، قَالَ : فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، وَقَالَ : " هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا : إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَا ، وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ ، فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
´نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ` عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی ، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا ، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی ، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے ، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے ، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے آپ کو ( نماز میں ) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے ، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ” جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو ؟ “ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہاں ، ہم ایسا کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ایسا مت کرنا ، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟“، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 824]
یہ روایت سنن نسائی میں بھی آئی ہے دیکھئے: [سنن نسائي حديث 921]
اور دیگر صحیح روایات کی موئد ہے اور امام کے پیچھے فاتحہ کے علاوہ دیگر قراءت خاموشی سے سننی چاہیے۔