حدیث نمبر: 2961M1
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " ، عَمْرٌو ، وَعُبَيْدَةُ ، ضَعِيفَانِ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي ، غَيْرُ مَرْفُوعٍ.
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے لینے والا شخص تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا، البتہ اگر کوئی شخص دھوکے کے ساتھ اس کا استعمال کرے (تو اس پر تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)، اسی طرح جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر کوئی چیز رکھوائی گئی ہو، وہ بھی تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا، لیکن اگر وہ دھوکہ دیتا ہے (تو اس پر بھی تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2961M1
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11605، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/2»
«قال ابن حجر: وفي إسناده ضعيفان ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 210)»