حدیث نمبر: Q621
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا تَرَكَ الْقُنُوتَ بَعْدَ شَهْرٍ لِزَوَالِ تِلْكَ الْحَادِثَةِ الَّتِي كَانَ لَهَا يَقْنُتُ، لَا نَسْخًا لِلْقُنُوتِ، وَلَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ قَالَ إِنَّهُ لَا يَقْنُتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم ﷺ نے جس مصیبت کے نازل ہونے کی وجہ سے قنوت کر رہے تھے اس کے ختم ہونے پر ایک ماہ کے بعد قنوت چھوڑ دی تھی۔ قنوت کے منسوخ ہونے کی وجہ سے نہیں چھوڑی تھی۔ اور نہ اس لیے چھوڑی تھی جیساکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک ماہ سے زائد قنوت جائز نہیں ہے۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q621