حدیث نمبر: Q495
‏ أَيْ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ جَهْرًا ‏(‏بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏)‏، وَأَنَّهُمْ كَانُوا يُسِرُّونَ ‏(‏بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏)‏ فِي الصَّلَاةِ، لَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ لَمْ يَشْتَغِلْ بِطَلَبِ الْعِلْمِ مِنْ مَظَانِّهِ ‏[‏وَ‏]‏ طَلَبَ الرِّئَاسَةَ قَبْلَ تَعَلُّمِ الْعِلْمِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سے ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے ان میں سے کسی کو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ بلند آواز سے پڑھتے ہوئے نہیں سنا ، اور بلا شبہ وہ نماز میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ آہستہ آواز میں پڑھتے تھے ( آپ کے فرمان کا ) وہ مطلب نہیں جیسا کہ ان لوگوں کو وہم ہوا ہے جنہوں نے علم کو اس کے اصلی مراجع سے حاصل نہیں کیا اور حصول علم سے پہلے ہی مقام و مرتبے کے طلب گار ہیں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q495