صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(93) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِالْتِفَاتَ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي تَكُونُ صَلَاةُ الْمَرْءِ بِهِ نَاقِصَةً هُوَ أَنْ يَلْوِيَ الْمُلْتَفِتُ عُنُقَهُ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں منع کردہ التفات جس سے نمازی کی نماز ( اجر و ثواب ) میں نقص آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ نمازی اپنی گردن موڑ کر التفات کرے
حدیث نمبر: Q485
لَا أَنْ يَلْحَظَ بِعَيْنِهِ يَمِينَا وَشِمَالًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس سے گردن موڑے بغیر دائیں بائیں جھانکنا مراد نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کبھی کبھار اپنی گردن اپنی پشت کے پیچھے موڑے بغیر اپنی نماز میں (بوقت ضرورت التفات) کر لیا کرتے تھےـ